1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خیبر پختونخواہ، ایبٹ آباد میں مظاہرے

پاکستانی صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھنے کے خلاف ایبٹ آباد میں منگل کو بھی مظاہرے جاری رہے۔ ان مظاہروں میں کئی افراد زخمی ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

default

گزشتہ دنوں پاکستانی قومی اسمبلی میں اٹھارویں ترمیمی بل کے منظور ہونے کے بعد صوبہ سرحد کی نام کی تبدیلی کے حوالے سے کئی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی تھی تاہم ایبٹ آباد میں اس کی شدت کافی زیادہ تھی۔ پیرکوایبٹ آباد میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ منگل کے روزجب ہنگاموں میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی تو ان مظاہرین ایک مرتبہ پھر مشتعل ہوگئے اوردکانوں کو لوٹنے اور دفاترکو جلانے کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع کر دیا۔

مظاہرین نہ صرف سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا بلکہ مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی کے دفاتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ مقامی سیاسی شخصیات مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین پر ہنگامہ آرائی کو ہوا دینے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ (ق) کا موقف ہے کہ صوبے کے نام کی تبدیلی کے مسئلے میں عوامی رائے اور خواہش کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس لئے صوبے میں رائے شماری کرائی جائے۔

Pakistan neues Parlament bei seiner ersten Tagung in Islamabad

مقامی سیاسی شخصیات مسلم لیگ ق پر ہنگامہ آرائی کو ہوا دینے کا الزام عائد کر رہی ہیں

گزشتہ روز مسلم لیگ(ن) اور ہزارہ کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنے والوں نے ایبٹ آباد میں بیک وقت احتجاج اور جلسوں کا اعلان کیا تھا۔ صوبے کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا ہے کہ وہ جمہوری لوگ ہیں اورہر بات کو آپس میں مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔ وزیراعلیٰ پختونخواہ نے کہا کہ اگر دفعہ 144لگی ہے اور اس کے باوجود کوئی نکل کربد امنی پھیلاتا ہے تو اس کے عزائم عوام پر واضح ہو نے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوری لوگ ہیں ہر مسئلہ بات چیت اورمذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں۔

ہزارہ ڈویژن پانچ اضلاع پر مشتمل ہے، جس میں ایبٹ آباد ،بٹ گرام،کوہستان ،مانسہرہ اور ہری پور شامل ہیں۔ 1998کی مردم شماری کے مطابق ہزارہ ڈویژن کی آبادی 35لاکھ 5 ہزار 58 ہے، جس میں پشتو بولنے والے 6لاکھ56ہزار 929،سرائیکی 2522، پنجابی 34ہزار163 اور اردو16ہزار944جبکہ 27لاکھ 92ہزار400افراد ہندکو،گوجری،شینا،کوہستانی اور دیگر اباسین بولنے والے رہائش پذیر ہیں۔ ہزارہ ڈویژن کے ضلع بٹ گرام کی آبادی 8165فیصد لوگ پشتون ہیں جبکہ دوسرے ضلع کوہستان میں زیادہ تر لوگ شینا اور کوہستانی زبان بولتے ہیں باقی تین اضلاع کے 77.1فیصد لوگوں میں21 فی صد پشتو بولتے ہیں۔

رپورٹ: فرید اللہ خان

ادارت: عدنان اسحاق