1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خیبر پختوانخوا:غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی تیز

خیبر پختونخوا حکومت نے ‌غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پشاور کے کنٹونمنٹ اور شہری علاقوں میں کاروبار کرنے والے افغانوں کا ڈیٹا اکھٹا کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

پشاور پولیس کے سینیئر افسر عباس مجید مروت کے مطابق، ’’غیر قانونی طور پر پشاور میں مقیم افغان مہاجرین کے خلاف مہم کے آغاز سے لیکر اب تک بارہ سو افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کو مروجہ قوانین کے تحت ملک بدر کیا جائے گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا،’’غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن مرحلہ وار شروع کیا گیا ہے اور یہ مہم تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی۔‘‘حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کے قیام میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغان حکومت اور بعض عالمی اداروں کی درخواست پر حکومت نے چار مرتبہ افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی ہے جبکہ اس بار صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی جانب سے ان کی واپسی کے لیے دباؤ کی وجہ سے مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ و قبائلی اُمور کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے مختلف شہروں میں پانچ لاکھ سے زیادہ غیر قانونی افغان رہائش پذیر ہیں۔ ان میں زیادہ تر مختلف کاروبار سے وابستہ ہیں۔

ہوم اینڈ ٹرائیبل ڈپارٹمنٹ نے صوبے میں مقیم افغان مہاجرین کی تفصیلات جمع کرنی شروع کردی ہیں، جس کے مطابق صوبے میں بائیس ایسے افغان تاجر ہیں، جو اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر پشاور کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔ پشاور کے مختلف بازاروں میں کاروبار کرنے والے افغان مہاجرین کپڑے، الیکٹرانکس،ٹرانسپورٹس،کرنسی ایکسچینج، جیم سٹون، قالین سازی کراکری اور ہوٹل کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ پشاور صدر کے بڑے تجارتی مرکز شفیع مارکیٹ کے انجمن تاجران تنظیم امن گروپ کے صدر ناصر ارشاد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا ’’تقریباً ستر فیصد کپڑے کے کاروبار پر افغان مہاجرین کا قبضہ ہے۔ ان میں زیادہ تر غیر قانونی طور پر یہاں مقیم ہیں لیکن ان لوگوں نے پاکستانی اہلکاروں کی ملی بھگت سے پاکستانی شناختی کارڈ بنوائے ہیں اور اس وجہ سے وہ گرفت سے بچ جاتے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس انہیں کبھی بھی نہیں پکڑ سکتی،’’ آج بھی پولیس آئی تھی لیکن یہ لوگ کچھ نہ کچھ کر کے انہیں واپس بھیج دیتے ہیں۔ ناصر ارشاد کے بقول وہ چاہتے ہیں کہ فوج اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن کا ادارہ مل کر یہ کام کرے تو ہی کچھ نہ کچھ کامیابی ہوسکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان میں سے بعض لوگ تو باقاعدہ انتخاب میں حصہ لیتے ہیں ووٹ ڈالتے ہیں اور بعض تو سرکاری اداروں میں ملازمت بھی کر رہے ہیں۔

افغان مہاجرین کی اکثریت پشاور سمیت صوبہ بھر میں کاروبار کر رہے ہیں اور ذاتی جائیداد بھی خرید چکے ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پورے صوبے میں دو لاکھ افغان مہاجرین کے پاس ذاتی گاڑیاں ہیں۔ ان میں سے چار سو تعلیمی اور تیکنکی مہارت کے اداروں میں کام کرہے ہیں جبکہ صوبہ بھر میں نو ہزار سے زیادہ ڈاکٹر ہیں، جن میں زیادہ تر پشاور کے بورڈ بازار، فقیر آباد، حیات آبادکچہ گڑھی اور بشیر آباد میں نجی کلینکس چلاتے ہیں۔ پشاور صدر کے تاجر سلیم خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’افغان مہاجرین کو اب جانا چاہیے کیونکہ ان کے ملک کے زیادہ تر علاقے پختونخوا سے زیادہ پُرامن ہیں۔

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان مہاجرین میں کاروبار کرنے والے حکومت پاکستان کو بھاری ٹیکس بھی اد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹ امپورٹ کا کاروبار کرنے والے بائیس تاجر حکومت کو سالانہ چار لاکھ ڈالر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سلیم خان کا کہنا تھا کہ کاروبار کرنے والے افغان مہاجرین ان براہ راست ٹیکس کے طور پر سالانہ کروڑوں روپے ادا کرتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد بالخصوص پراپرٹی اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

پشاور پولیس کے مطابق صوبہ بھر میں اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے زیادہ تر واقعات میں یہاں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین ملوث ہوتے ہیں۔ اس بنا پر اب وفاقی حکومت نے افغان مہاجرین کے یہاں قیام میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں پختونخوا حکومت کی ہدایت پر پہلے مرحلے میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے وہیں قبائلی علاقوں سے بھی مرحلہ وار غیر قانونی افغان مہاجرین کو نکالا جارہا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب کچی بستی میں رہائش پذیر غیر قانونی افغان باشندوں کو پہلے نوٹس دیا گیا جبکہ بعد ازاں ان کے دو سو اٹھارہ گھروں کو مسمارکیا گیا۔ خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل انتظامیہ نے غیر افغان مہاجرین کو انیس مئی سے قبل افغانستان جانےکے لیے ڈیڈ لائن دی ہے، جس کے بعد ان کے گھر مسمار کر کے انہیں علاقہ بدر کیا جائے گا۔