1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خیبر ایجنسی میں ڈرون حملے، ہلاکتوں کی تعداد ساٹھ ہو گئی

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے خیبر میں گزشتہ چوبس گھنٹوں کے دوران مبینہ امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد 60 ہو گئی ہے۔ ان میں سے پچاس افراد تیراہ وادی میں کئے گئے تین ڈرون حملوں میں مارے گئے۔

default

پشاور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خیبر ایجنسی میں مسلسل دوسرے دن ڈرون حملے کئے گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں حملوں میں ایجنسی کی وادی تیراہ کے دو مختلف دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک شدگان جنگجو ہیں تاہم آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

جمعرات کو کئے گئے پہلے ڈرون حملے میں سات جبکہ جمعہ کو کئے گئے دو حملوں میں 24 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ پشاور میں حکومتی ذرائع کا دعوٰی ہے کہ جمعرات کو مارے جانے والے تمام افراد کالعدم تحریک طالبان کے مقامی عسکریت پسند تھے۔ حکومتی ذرائع نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

Karte von Pakistan mit Swat Region in gelb

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع قبائلی علاقے کا نقشہ

اب سے پہلے تک ڈرون حملوں کو مغربی قبائلی علاقوں وزیرستان، اورکزئی اور باجوڑ ایجنسی تک محدود رکھا گیا تھا۔ خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاورسے متصل قبائلی علاقے کو نشانہ بنانے کی اس کارروائی کو ڈرون حملوں کے دائرہ کار میں توسیع کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ نیم خودمختار قبائلی علاقہ سات ایجنسیوں پر مشتمل ہے، خیبر، مومند، باجوڑ، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور کرم۔

واشنگٹن انتظامیہ اس نیم خودمختار قبائلی علاقے کو القاعدہ و طالبان کا گڑھ تصور کرتی ہے۔ امریکی صدرباراک اوباما ایک حالیہ خطاب میں پاکستان حکومت پر ایک بار پھر زور دے چکے ہیں کہ عسکریت پسند مخالف کارروائی میں شدت و تیزی لائی جائے۔

رواں سال قبائلی علاقوں پر کئے گئے ڈرون حملوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ جنوری سے اب تک لگ بھگ ایک سو ڈرون حملوں میں چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

محتاط اندازوں کے مطابق اگست 2008ء سے ڈرون حملوں میں 1270 افراد مارے جاچکے ہیں۔ پاکستانی قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف شدید عوامی اشتعال پایا جاتا ہے۔ ان حملوں میں مارے جانے والوں میں سے بیشتر کی شناخت آزاد ذرائع سے نہیں ہوپاتی۔ یہ نیم خود مختارعلاقہ انٹیلی جنس بلیک ہول کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں صحافیوں اورغیرملکی رضا کاروں کی رسائی انتہائی محدود ہے۔

Logo CIA Central Intelligence Agency

میڈیا اطلاعات کے مطابق ڈرون حملوں کا انتظام امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاس ہے

دریں اثنا برطانوی حکومت اُن اطلاعات کی چھان بین میں مصروف ہے جس کے مطابق دو برطانوی شدت پسند شمالی وزیرستان میں کئے گئے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان دو میں سیٹیو نامی برطانوی شہری بھی شامل تھا جو ممکنہ طور پر قبائلی علاقے میں مارا جانے والا پہلا سفید فام برطانوی ہوسکتا ہے۔

اسلام آباد حکومت عوامی سطح پران حملوں کی مذمت کرتی ہے۔ امریکی حکومت عوامی سطح پر ڈرون حملوں کی تصدیق نہیں کرتی البتہ یہ واضح ہے کہ اس خطے میں ڈرون حملوں کی صلاحیت امریکی افواج اور ان کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاس ہی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت :کشور مصطفٰی/ عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس