1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خیبر ایجنسی میں فضائی حملے، پندرہ جنگجو ہلاک

پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے افغانستان سے متصل قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر تازہ بمباری کرتے ہوئے کم ازکم پندرہ مشتبہ باغیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کے دن جنگی طیاروں نے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے مختلف علاقوں پر بمباری کی، جن میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقہ طالبان اور دیگر مقامی جنگجوؤں کا ایک اہم ٹھکانہ قرار دیا جاتا ہے۔

ایک مقامی سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’ہفتے کے دن کی گئی ان فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں کم ازکم پندرہ شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس بمباری میں خیبر ایجنسی میں واقع تیراہ وادی کے مختلف علاقوں میں جنگجوؤں کے متعدد ٹھکانوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ یہ تازہ فضائی حملے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف کی گئی فوجی کارروائی کا حصہ تھے۔ پاکستانی فوج نے طالبان اور دیگر جنگجوؤں کے خلاف گزشتہ برس عسکری آپریشن شروع کیا تھا۔ پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیارے افغانستان سے ملحق پاکستانی قبائلی علاقوں میں اکثر ہی ان جنگجوؤں کو نشانہ بناتی رہتی ہے۔ پاکستانی فوج نے گزشتہ برس اکتوبر میں خیبر ایجنسی میں جنگجوؤں کے زمینی کارروائی بھی شروع کر دی تھی۔

Pakistan Militär Patrouille Peschawar

پاکستانی فوج قبائلی علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف عسکری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کے خلاف اس کارروائی میں سینکڑوں شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ ان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں رواں برس کے دوران ان جنگجوؤں کے حملوں میں بھی کمی نوٹ کی گئی ہے۔ سن 2007ء کے مقابلے میں اس برس ایسے حملوں میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد بھی انتہائی کم ہے۔

DW.COM