1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خون عطیہ لینے سے انکار: ریڈکراس کے خلاف مقدمہ

چین میں ایک ایسے شہری نے بیجنگ میں ریڈ کراس کی ملکی تنظیم کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے جو ہم جنس پرست ہے اور جس کی خون کا عطیہ دینے کی پیشکش کو ریڈ کراس نے رد کر دیا تھا۔

default

چین میں اپنے حقوق کے لئے مظاہرہ کرنے والے ہم جنس پرست شہری

اس مقدمے کو عوامی جمہوریہ چین میں اپنی نوعیت کا اولین مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے اور اپنے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی شکایت کرنے والا یہ شہری دراصل ایک ایسا صحافی ہے، جو اپنی شناخت صرف اپنے قلمی نام وانگ ژی ژینگ سے کرواتا ہے۔

بیجنگ میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صحت عامہ سے متعلقہ ملکی قوانین، جن پر عملدرآمد چین میں خون کی منتقلی کے قومی ادارے کے لئے بھی لازمی ہے، اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ایسا شہری اپنے خون کا عطیہ دے جو ہم جنس پرست ہو یا جس کے بیک وقت ایک سے زیادہ افراد کے ساتھ جنسی رابطے ہوں۔

Logo Rotes Kreuz und Roter Halbmond

وانگ کا مطالبہ ہے کہ ریڈ کراس کی تنظیم تمام ہم جنس پرستوں سے معافی مانگے

وانگ ژی ژینگ کے خون کا عطیہ لینے سے انکار کی وجہ بھی یہی تھی۔ لیکن اس پر اس چینی صحافی نے بیجنگ میں ریڈ کراس کی تنظیم کے خلاف یہ کہہ کر مقدمہ دائر کر دیا کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ ژی ژینگ کی اپیل ابھی تک زیر سماعت ہے اور اس بارے میں عدالتی فیصلہ بھی جلد ہی متوقع ہے۔

اس چینی ہم جنس پرست شہری نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ریڈ کراس کی تنظیم کو تمام ہم جنس پرستوں سے معافی مانگنی چاہئے اور ان کی طرف سے خون کے عطیات کی پیشکشیں بھی قبول کی جانی چاہیئں۔ وانگ کے وکیل کا کہنا ہے: ’’اگر اس مقدمے کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو جاتا ہے تو یہ ہم جنس پرست چینی شہریوں کی بہت بڑی جیت ہوگی کیونکہ اپنی نوعیت کے ایسے پہلے عدالتی فیصلے سے چین کے ایسے شہریوں کو ایک طرح سے تحفظ مل جائے گا۔‘‘

چینی معاشرے میں ہم جنس پرست افراد سے متعلق سماجی رویے تعصب سے پاک نہیں ہیں۔ وہاں ایسے شہریوں کو اپنا ایک سماجی میلہ منعقد کرنے کی اولین اجازت گزشتہ برس جولائی میں دی گئی تھی۔ پچھلے سال دسمبر میں جنوب مغربی صوبے یون آن کے شہر ڈالی میں ایک ایسیGay Bar بھی کھل گئی تھی، جس کی حکومت کی طرف سے باقاعدہ حمایت بھی کی گئی تھی۔

Solidarität mit Schwulen und Lesben im Iran CSD Köln 2009

جرمنی میں ایرانی ہم جنس پرستوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے نکالی گئی ایک ریلی کی تصویر

حکومتی سطح پر اس بالواسطہ جزوی سرپرستی کے باوجود اس سال جنوری میں پولیس نے ملک میں Mr. Gay China نامی ایک مجوزہ نمائش پر پابندی لگا کر اسے ممنوع قرار دے دیا تھا۔ یہ فیصلہ کئی روز تک ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی سرخیوں کا موضوع بنا رہا تھا۔ قبل ازیں گزشتہ برس دسمبر میں چینی حکومت نے تو عوام کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ہم جنس پرست افراد ایڈز کے وائرس کی صحت مند شہریوں میں تیز رفتار منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چین میں ہم جنس پرست مردوں اورعورتوں کی تعداد قریب 30 ملین ہے، جو ملک کی مجموعی آبادی کا 2.3 فیصد بنتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں ہم جنس پرست شہریوں کی اصل تعداد ممکنہ طور پر عمومی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے چینی باشندوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے جو ہیں تو ہم جنس پرست مگر سماجی تعصب کے خوف سے اپنے جنسی رجحانات کا کھل کا اظہار نہیں کرتے۔

چین میں ہم جنس پرستی کو 2001ء تک بالعموم ایک ’دماغی مرض‘ کا نام دیا جاتا تھا اور وہا‍ں ایسے افراد کو آج بھی سماجی اور خاندانی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ لیکن آج کے چین میں چند برس پہلے کے مقابلے میں جم جنس پرستی کو قبول کرنے کے رجحان میں بتدریج اضافہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹ: سائرہ حسن شیخ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM