1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خونریز جھڑپوں کے بعد طورخم کی سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھل گئی

پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم کی سرحدی گزر گاہ دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین یہ اہم ترین بارڈر کراسنگ خونریز جھڑپوں کے بعد ایک ہفتہ قبل بند کر دی گئی تھی۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ہفتہ اٹھارہ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین جملہ سرحدی گزر گاہوں میں سے شمال مغربی پاکستان میں خیبر ایجنسی نامی قبائلی علاقے میں طورخم کے مقام پر اس مصروف ترین بارڈر کراسنگ کے کئی روزہ بندش کے بعد دوبارہ کھولے جانے کی تصدیق دو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے کی۔

DW.COM

افغانستان اور پاکستان کے سیاسی کے علاوہ سرحدی امور سے متعلق تعلقات بھی گزشتہ کچھ عرصے سے کافی کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ طورخم کی یہ گزر گاہ اس وقت بند کر دی گئی تھی جب پاکستانی اور افغان دستوں کے مابین وہاں پر فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا تھا۔

اس کا سبب اسی سرحد پر لیکن پاکستانی علاقے میں ایک ایسے گیٹ کی تعمیر کا منصوبہ بنا تھا، جس کی مدد سے پاکستان اپنے ہاں افغان باشندوں کی غیر قانونی آمد روکنا چاہتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ دو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ طورخم کی بارڈر کراسنگ ہفتہ 18 جون کی صبح سے نہ صرف دوبارہ کھول دی گئی ہے بلکہ اب ضروری اور مکمل سفری دستاویزات کے حامل افراد کو اس کراسنگ سے گزرنے کی اجازت بھی دی جا رہی ہے۔

طورخم کا بارڈر گزشتہ اتوار 12 جون کو بند کر دیا گیا تھا اور اس وجہ سے اس گزر گاہ کے دونوں طرف ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی اور افغان شہری پھنس کر رہ گئے تھے۔

اس کے علاوہ سرحد کے دونوں طرف ایسی ہزار ہا مال بردار گاڑیوں کی بھی کئی کئی کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئی تھیں، جو ہر روز بہت بڑی تعداد میں کئی طرح کا سامان لے کر یہ سرحد پار کرتی ہیں۔

طورخم بارڈر کراسنگ اور اس کے بہت قریبی علاقے میں پاکستانی اور افغان سکیورٹی دستوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہو گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں دو افغان سرحدی محافظوں کے علاوہ ایک پاکستانی میجر بھی شامل تھا۔ اس دوطرفہ فائرنگ میں دو بچوں سمیت 13 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

میجر جواد علی چنگیزی کو گزشتہ اتوار کے روز سرحد پار سے کی جانے والی فائرنگ کے دوران شدید نوعیت کے زخم آئے تھے، جس کے ایک دن بعد ہسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

afghanische Grenzsoldaten in Torkham Grenze zu Pakistan

طورخم کی یہ گزر گاہ اس وقت بند کر دی گئی تھی جب پاکستانی اور افغان دستوں کے مابین وہاں پر فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا تھا

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ طورخم بارڈر کے دوبارہ کھولے جانے کی تصدیق کرنے والے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی شناخت اس وجہ سے خفیہ رکھے جانے کی خواہش کی کہ انہیں اس بارے میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی اجازت نہیں ہے۔

دوسری طرف اس سرحدی گزر گاہ کے دوبارہ کھولے جانے سے ممکنہ طور پر اسلام آباد اور کابل کے مابین پائی جانے والی اس کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جس کا سبب بننے والے طاقت کے استعمال کے آغاز کا الزام دونوں ملک ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔

گزشتہ ویک اینڈ پر اطراف کے سکیورٹی دستوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے بعد پاکستان اور افغانستان دونوں نے ہی اپنے اضافی مسلح دستے بھی اس علاقے میں تعینات کر دیے تھے۔