1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خوف کے سائے میں جنوبی وزیرستان واپسی

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی کے تناظر میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والوں کا ایک قافلہ واپس ان کے آبائی علاقے میں پہنچ گیا ہے۔

default

واپس جانے والوں کے دل میں خوف موجود ہے جبکہ عسکریت پسندوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عوام کی درست رہنمائی نہیں کررہی اور اُن کی جانوں کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔

خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں اقوام متحدہ کے اہلکاراسلم خان کے بقول اس قافلے میں 41 خاندانوں کے افراد شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR اور پاکستان کی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے تحت 8 ہزار خاندانوں کو دوبارہ وزیرستان بھیجنے میں تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔

خان کے بقول اس سلسلے میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ لوگ رضاکارانہ طور پر واپس اپنے آبائی علاقوں میں جائیں۔ واپس جانے والے کم از کم چودہ ماہ تک اپنے گھروں سے دور رہے ہیں۔

اندرون ملک مہاجر بن جانے والے ایک ایسے ہی شخص، موسیٰ خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’میں واپس نہیں جانا چاہتا، مجھے حکومت پر بھرسہ نہیں، جو کہہ رہی ہے کہ وہاں ہم محفوظ رہیں گے۔‘ ان کے بقول وہاں اب بھی عکسریت پسند اور فوج موجود ہے۔ ان کے بقول اگر انتہا پسندوں کی طرف سے ایک بھی گولی داغی جاتی ہے تو فوج تمام علاقے پر شیلنگ شروع کردیتی ہے۔

Flash-Galerie Pakistan

واپس جانے والے کم از کم چودہ ماہ تک اپنے گھروں سے دور رہے ہیں

واشنگٹن حکومت پاکستان اورافغانستان کے درمیان واقع قبائلی علاقے کو القاعدہ کا گڑھ سمجھتی ہے اوراسے خطہ ء زمین پر سب سے خطرناک مقام قرار دیتی ہے۔ پاکستانی فوج نے گزشتہ سال جنوبی وزیرستان میں آپریشن ’راہ نجات‘ کا آغاز کیا تھا۔ قبائلی علاقے میں امن و امان کی صورتحال اب بھی انتہائی مخدوش بتائی جاتی ہے۔

حکومتی اندازوں کے مطابق لگ بھگ چارلاکھ سے زائد افراد محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پاکستان بھر میں تیس لاکھ افراد اندرون ملک مہاجرت پر مجبور ہوئے تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستانی فوج اور طالبان عسکریت پسندوں پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کرتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شمالی مغربی حصے میں گزشتہ سال کے دوران 13 سو سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM