1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

خوشی آپ کے دل کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے، نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق کے مطابق بچے کی پیدائش یا آپ کی پسندیدہ ٹیم کی فتح جیسے بہت زیادہ خوشی کا باعث بننے والے واقعات آپ کے دل کے لیے ایک ایسے بڑے خطرے کی وجہ بھی بن سکتے ہیں، جسے ماہرین ’ہیپی ہارٹ سنڈروم‘ کا نام دیتے ہیں۔

Frau macht Luftsprung

صرف بری خبر ہی نہیں اچانک بڑی خوشی بھی دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعرات تین مارچ کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ محققین اور طبی ماہرین کے مطابق ’بروکن ہارٹ سنڈروم‘ کو ’ٹاکوٹسُوبو سنڈروم‘ بھی کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے دل کے پٹھے اچانک بہت کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس طرح دل کا بایاں حصہ، جو آکسیجن ملے خون کو پورے جسم میں پمپ کرنے کا ذمے دار ہوتا ہے، غیر معمولی حد تک پھول جاتا ہے۔

اس طرح کی صورت حال میں کسی بھی فرد کو سینے میں بہت زیادہ درد محسوس ہوتا ہے اور اس کا سانس پھولنے لگتا ہے۔ دل کی اس غیر معمولی کارکردگی اور دباؤ کا نتیجہ دل کے دورے اور اس دورے کے باعث موت کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

یہ بات تو ایک طویل عرصے سے ماہرین کے علم میں تھی کہ کوئی بہت بڑا اچانک جذباتی دھچکا یا کوئی بہت بری خبر، جیسے کہ شریک حیات کا انتقال یا کوئی پرتشدد جھگڑا، بھی دل کے دورے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم اس بارے میں ماہرین کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں تھے اور نہ ہی آج سے پہلے کسی نے اس بارے میں چھان بین کی تھی کہ اچانک ملنے والی خوشی کی کوئی بڑی خبر بھی اسی طرح کے نتائج کی وجہ بن سکتی ہے۔

اس موضوع پر تحقیق سوئٹزرلینڈ کے دو ماہرین نے 2011ء میں شروع کی تھی۔ یونیورسٹی ہسپتال زیورخ کے کرسٹیان ٹیمپلِن اور ژیلینا غدری نے عالمی سطح پر ایسے واقعات کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا، جن میں کسی بھی مریض یا مریضہ کو ’بروکن ہارٹ سنڈروم‘ کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سنڈروم کی خاص بات یہ ہے کہ اپنے تواتر کے لحاظ سے یہ بہت ہی کم انسانوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔

ان دونوں سوئس ماہرین کی اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’ورلڈ رجسٹری‘ شروع کیے جانے کے پانچ سال بعد تک ان کا نیٹ ورک نو ملکوں میں 25 بڑے ہسپتالوں میں پھیل چکا تھا۔ اس دوران ان ماہرین نے اس سنڈروم (TTS) کے 1750 واقعات ریکارڈ کیے۔ اس ریسرچ کے دوران کرسٹیان ٹیمپلِن اور ژیلینا غدری کو 16 دیگر محققین کی مدد بھی حاصل رہی۔

اس مطالعے سے ان ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ پانچ سالوں میں بروکن ہارٹ سنڈروم کے 1750 واقعات میں سے 485 ایسے تھے، جن کی وجہ واضح طور پر اچانک جذباتی جھٹکے بنے تھے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے چار فیصد یا مجموعی طور پر 20 مریض ایسے تھے جن کی بیماری کی وجہ ’ہیپی ہارٹ سنڈروم‘ یا اچانک ملنے والی بہت بڑی خوشی کی خبریں بنی تھیں۔

Symbolbild Ferien

ماہرین نے پانچ سالوں میں ہیپی ہارٹ سنڈروم کے کم از کم بیس واقعات ریکارڈ کیے

ژیلینا غدری نے اس ریسرچ کے نتائج کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’’ہیپی ہارٹ سنڈروم کے 20 واقعات میں مریضوں کی بیماری کی وجہ غیر متوقع خوشی کی خبریں بنی تھیں۔ مثلاﹰ کوئی بہت بڑی برتھ ڈے پارٹی، شادی کی تاریخ کا طے پانا، بچے کی پیدائش یا پھر کسی پسندیدہ ٹیم کی فتح۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک واقعہ بھی متعلقہ مریض کے لیے جان لیوا ثابت نہیں ہوا تھا۔‘‘

اس سنڈروم کے حوالے سے ماہرین نے جو ایک بات خاص طور پر نوٹ کی وہ یہ تھی کہ ’بروکن ہارٹ‘ یا ’ہیپی ہارٹ‘ سنڈروم کا شکار ہونے والے انسانوں میں سے 95 فیصد تعداد خواتین کی تھی اور وہ بھی ایسے خواتین جن کی عمریں 60 اور 70 برس کے درمیان تھیں۔

اس بارے میں کرسٹیان ٹیمپلِن نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس سنڈروم کا شکار اگر 95 فیصد تک صرف عمر رسیدہ خواتین ہی ہوتی ہیں تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کا تعلق ایسٹروجن نامی ہارمون کی سطح سے ہے، جو ہماری رائے میں اس بیماری میں بظاہر کوئی نہ کوئی تو ضرور کردار ادا کرتا ہے۔‘‘

طبی طور پر یہ ایک حقیقت ہے کہ خواتین میں ایسٹروجن نامی ہارمون کی سطح مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ مردوں میں نمایاں ترین ہارمون ٹیسٹوسٹیرون ہوتا ہے۔

DW.COM