1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خوست کی مسجد میں دھماکہ، مقامی رہنما ہلاک

افغان صوبے خوست کی ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں گزشتہ برس ستمبر میں منعقدہ ملکی پارلیمانی انتخابات میں شریک ایک امیدوار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں مسجد میں موجود 20 دیگر افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔

default

افغان صوبے خوست کی ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں گزشتہ برس ستمبر میں منعقدہ ملکی پارلیمانی انتخابات میں شریک ایک امیدوار ہلاک ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں مسجد میں موجود 20 دیگر افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔

حملے میں ہلاک ہونے والے سیاستدان سید اللہ سید خوست میں ایک چھوٹی سیاسی جماعت کی قیادت بھی کرتے تھے۔ ہفتے کو خوست کے پولیس سربراہ عبدالحکیم اسحاق زئی نے صحافیوں کو بتایا کہ مسجد پر یہ حملہ گزشتہ روز جمعہ کی عبادات کے آغاز سے چند منٹ قبل ہوا، اور حملے کے نتیجے میں سید اللہ سید شدید زخمی ہوئے، جبکہ بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

اسحاق زئی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس حملے کی ذمہ داری فی الحال کسی گروپ یا فرد پر عائد نہیں کی جا رہی اور اس سلسلے میں تفتیش کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

Selbstmordanschlag in Kabul Afghanistan

افغان سکیورٹی اہلکار علاقے کو گھیرے میں لئے ہوئے

گزشتہ برس 18 ستمبر کو افغانستان میں 250 پارلیمانی نشستوں کے لئے انتخابات ہوئے تھے اور افغان ووٹروں کے لئے انتخابات میں سب سے اہم موضوع امن و امان کی صورتحال رہا تھا۔ ان انتخابات میں تقریبا 2000 امیدواروں نے شرکت کی تھی۔

طالبان عسکریت پسندوں نے مسجد پر ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس حملے کے پس پردہ سید اللہ سید کے سیاسی حریف بھی ہو سکتے ہیں۔

صوبائی ہسپتال کے سربراہ عامربادشاہ رحمت زئی کے مطابق حملے کے بعد 20 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جبکہ سید اللہ سید اس حملے میں اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھے تھے اور بعد میں وہ ہسپتال ہی میں انتقال کر گئے۔

جنوبی افغانستان میں ہونے والے ایک اور خونریز واقعے میں چار آئی سیف فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ نیٹو نے ان فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم ابھی تک ان اہلکاروں کی شہریت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس