1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خوراک کی فراہمی سب کے لیے، موجودہ صدی کا اہم ترین چیلنج

قوی امکان ہے کہ سن 2050 تک دنیا کی آبادی دس ارب کے قریب پہنچ جائے گی۔ دوسری جانب زرعی زمین سے اناج پیدا کرنے کا عمل روایتی ہے اور اِسے تیز کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اناج کی کمی سے بھوک پھیلے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پرآبادی میں افزائش مسلسل جاری ہے لیکن زمین کا رقبہ اتنا ہی ہے اور زراعت کے لیے کاشت والے علاقے بھی کم ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ شہروں کا پھیلاؤ ہے۔ اس وقت زمین پر بھوک کے پھیلنے کی کیفیت یہ ہے کہ ہر نو میں سے ایک شخص خوراک سے محروم ہے۔ اناج میں کمی کی ایک وجہ زمین کی زرخیزی میں کمی بھی بتائی جاتی ہے۔

سماجی ماہرین کا واضح طور پر اس صورت حال کے تناظر میں کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کا عمل تو روکنا ناممکن ہے۔ سن 2030 میں دنیا کی آبادی آٹھ ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہو جائے گی اور سن 2050 میں یہ آبادی دس ارب کے قریب پہنچ جائے گی۔ اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی تو تراسی برس بعد زمین پر گیارہ ارب سے زائد نفوس بستے ہوں گے۔

Bangladesch, Umweltverschmutzung (Getty Images)

سن 2030 میں دنیا کی آبادی آٹھ ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہو سکتی ہے اور خوراک کی فراہمی اور مشکل ہو جائے گی

سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پیدا ہونے والے اناج سے خوراک کم نہیں ہوئی ہے لیکن اصل مسئلہ اس کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ان ماہرین کے مطابق خوراک کھانے سے زیادہ ضائع کی جاتی ہے اور یہی بھوک میں افزائش کی بنیاد ہے۔ اس عمل میں ضروری ہے کہ خوراک کے ضائع ہونے کے سلسلے کو کسی طرح روکا جائے اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو بھوک کا نشان مٹانا آسان ہو گا۔

زرعی سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے زمین بردگی کا عمل جاری ہے اور کئی زرعی علاقے اب کاشت کے قابل نہیں رہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ زیرزمین پانی کی کمیابی اور نمکیات میں اضافہ بھی ہے۔

زرعی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مسلسل کاشت سے زمین کی زرخیزی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت زمین سے فی شخص کے لیے چار ہزار کیلوریز پیدا کی جا رہی ہیں اور یہ ہر انسان کی ضرورت سے دو گنا ہے، اگر اقوامِ عالم کوئی استعمال کا بہتر نظام واضح کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو کم از کم موجودہ آبادی کے لیے خوراک کی فراہمی کوئی مسلئہ نہیں رہے گی۔

DW.COM