1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خوراک کا عالمی دن، پاکستان میں صورتحال مزید خراب

آج دنیا بھر میں خوراک کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ اس مرتبہ اس دن کا عنوان"بھوک کے خلاف اتحاد "رکھا گیا ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق پاکستان کی تقریبا پچاس فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

default

پاکستان میں عالمی ادارہ خوراک کے جرمنی سے تعلق رکھنے والے سربراہ وولف گانگ ہیربِنگر کا کہنا ہے کہ دو برس قبل دنیا بھر میں آنے والے مالی اور خوراک کے بحران نے پاکستان کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں غذائی عدم تحفظ اور بھوک کے شکار افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ پاکستان میں ایسے لوگ، جن کے پاس صحت مند اور اچھی زندگی گزارنے کے لیے خوراک موجود نہیں، ان کی تعداد اڑتالیس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اب سیلاب نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ہے اور اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق مزید پچاس لاکھ لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔''

Pakistan UN Millennium Ziele Slum in Lahore Wasser NO-FLASH

سیلاب کے باعث صورتحال میں مزید ابتری آئی ہے

ادھر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خوراک کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیانات میں کہا ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہے۔ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے مختصر، درمیانی اور طویل مدتی منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ ان بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت عوام کو خوراک کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے زراعت کے شعبے میں مزید مراعات دے رہی ہے۔ تاہم دوسری جانب غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ افراط زر نے لوگوں کو قوت خرید سے محروم کر دیا ہے۔

اس بارے میں ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کا کہنا ہے کہ افراط زر ہی کے سبب پاکستانیوں کی اکثریت نے گزشتہ سال کی نسبت اس سال بیس فیصد کم گندم کا استعمال کیا ہے۔ وولف گانگ ہیربنگر نے بھی افراط زر کو بھوک کے اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا'' پاکستان میں خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور یہ دو ہزار آٹھ کے افراط زر میں اضافے کا سبب ہیں مسئلہ یہ ہے کہ صرف سیلاب ذدگان کو خوراک یا بھوک کا مسئلہ درپیش نہیں بلکہ اس سے پوری آبادی متاثر ہوئی ہے۔''

Flash-Galerie Pakistan Überschwemmung

عالمی ادارہ خوراک کے مطابق پاکستان کی تقریبا پچاس فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بڑی تعداد میں بچوں اور حاملہ خواتین کو غذائی کمی کا شکار ہونے سے بچانا اور زراعت کے شعبے کی بحالی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق