1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’خوراک کافی ہے، سب کے لیے، آپ کی مدد سے‘

دنیا بھر سے بھوک کے خاتمے کے لیے سرگرم جرمن تنظیم ویلٹ ہُنگر ہِلفے کی طرف سے منائے جانے والے ہفتے کا آج سے آغاز ہو گیا ہے۔ اس دوران شہر بون کے مختلف مقامات پر مختلف نوعیت کے پروگرامز منعقد کیے جائیں گے۔

ویلٹ ہُنگر ہِلفے کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق بون شہر کے تفریحی مقام ’رائناؤ‘ جو دریائے رائن کے کنارے واقع ہے میں آج ایک ریس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کا مقصد چندا اکٹھا کرنا تھا اور اس سے حاصل ہونے والی تمام رقوم بھوک کے خاتمے کے لیے جاری سرگرمیوں میں استعمال کی جائیں گی۔ جرمن اداکارہ گیزینے چکروفسکی، گلوکارہ لوسی ڈیاکوفسکا اور نشریاتی ادارے ’آر ٹی ایل‘ کے میزبان فلوریان آمبروسسس  بھی اس دوڑ میں شامل تھے جبکہ ان کے ساتھ تیرہ سو دیگر افراد نے پانچ کلومیٹر طویل اس ’چیرٹی رن‘ میں حصہ لیا۔

منتظمین نے بتایا ہے کہ اس دوران بیس ہزار یورو کی رقم اکھٹی کی گئی ہے۔ 16 اکتوبر کو خوراک کے عالمی دن کے موقع پر ویلٹ ہنگر ہلفے کی جانب سے بھوک کے خاتمے کے حوالے سے کوششوں کا سالانہ جائزہ پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر مزید عطیات کی اپیل کی جاتے ہے۔

Nordkorea Landwirtschaft

ویلٹ ہُنگر ہِلفے اب تک ستر سے زائد ممالک میں آٹھ ہزار سے زائد منصوبے پر تقریباً تین ارب یورو خرچ کر چکی ہے

اس سال یہ ہفتہ اس موٹو کے تحت منایا جا رہا ہے: (خوراک) کافی ہے، سب کے لیے۔ آپ کی مدد سے۔ اس دوران متعدد فلاحی تنظیمیں، اسکول اور کاروباری ادارے چندہ جمع کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر ویلٹ ہنگر ہلفے کا ساتھ دے رہے ہیں۔

جرمن تنظیم ویلٹ ہُنگر ہِلفے کی طرف سے منائے جانے والے ہفتے کے آغاز پر جرمن صدر گاؤک نے کہا کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں ضرورت مند انسانوں کو مدد کی پیشکش کرنا یکجہتی کے اظہار کا ایک ایسا عمل ہے، جو مدد کرنے والوں کے لیے خوشی اور ہمت کا باعث بنتا ہے۔ گاؤک نے فلاحی شعبے میں جرمن تعاون کو سراہتے ہوئے کہا  کہ ہنگامی حالات کے شکار افراد کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

ویلٹ ہُنگر ہِلفے جرمنی کی سب سے بڑی نجی فلاحی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم 1962ء میں قائم کی گئی تھی اور اس وقت سے اب تک ستر سے زائد ممالک میں آٹھ ہزار سے زائد منصوبے پر تقریباً تین ارب یورو خرچ کر چکی ہے۔ ویلٹ ہنگر ہلفے دنیا سے بھوک اور غربت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔