1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خوراک سے بھرے ایرانی طیارے قطر پہنچ گئے

گلف ممالک کی طرف سے قطر کے ساتھ ٹرانسپورٹ رابطے منقطع کرنے کے بعد بروز اتوار ایران نے اشیائے خوردونوش سے بھرے پانچ طیارے اس خلیجی ملک روانہ کر دیے ہیں۔ اس بحران کے باعث قطر میں خوراک کی قلت کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی حکومت کے حوالے سے گیارہ جون بروز اتوار بتایا ہے کہ اشیائے خوراک سے بھرے پانچ طیارے قطر پہنچا دیے گئے ہیں تاکہ وہاں ممکنہ طور پر خوراک کی قلت نہ ہو۔ ایران کی سرکاری فضائی کمپنی ’ایران ایئر‘ کے ترجمان شاہ رخ نوش آبادی نے بتایا ہے، ’’ابھی تک پانچ طیارے قطر پہنچ چکے ہیں، جن میں پھل اور سبزیاں لدی ہوئی تھیں۔ ہر جہاز میں نوے ٹن کی خوراک تھی۔ مزید طیارے بھی قطر روانہ کیے جائیں گے۔‘‘

قطری شہریوں کے لیے خلیجی ممالک کی ہاٹ لائن

قطری وزیر خارجہ ماسکو میں، روس کا مکالمت پر زور

قطر ’دہشت گردوں‘ کا بڑا مالی معاون ہے، ٹرمپ

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ تہران حکومت قطر کو یہ سامان ایکپسورٹ کر رہا ہے یا یہ امداد ہے۔ نوش آبادی نے مزید کہا ہے کہ قطر میں خوراک کی مزید طلب ہوئی تو مزید رسد بھی پہنچا دی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ ایران ہر روز سو ٹن سبزیاں اور پھل قطر پہنچائے گا۔

سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ کے نتیجے میں خطے میں ایک شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ مصر، موریطانیہ اور یمن نے بھی قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔ ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر دہشت گردی کی معاونت کرتا ہے اور اگر وہ اس مدد کو ختم نہیں کرے گا تو یہ بائیکاٹ جاری رہے گا۔ 

ایران کے علاوہ کئی مغربی ممالک نے بھی زور دیا ہے کہ اس تنازعے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔ دوسری طرف قطری وزیر خارجہ عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی خاطر کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی مقصد کی خاطر وہ مختلف ممالک کے دورے بھی کر رہے ہیں۔

اسی اثناء میں کویتی وزیر خارجہ صباح خالد الصباح نے اتوار کے دن کہا ہے کہ دوحہ حکومت اس بحران کے خاتمے کی خاطر عالمی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ قطر ایسے الزامات مسترد کرتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے۔

صباح خالد الصباح نے صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہا کہ اس بحران کے حل کی کوششیں جاری ہیں اور قطر بھی ہمسایہ ممالک کے تحفظات پر غور کرنے کو تیار ہے تاکہ انہیں دور کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ خلیجی ممالک میں پائے جانے والے اختلافات کو ’گلف فریم ورک‘ کے تحت ہی حل کرنا چاہیے۔

ادھر قطر نے اس تنازعے کو مزید شدید ہونے سے بچانے کی خاطر کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے شہری قطر میں رہ سکتے ہیں اور اپنے کام کاج کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ قبل ازیں ایسے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے کہ شاید قطر بھی جوابی کارروائی پر اتر سکتا ہے۔

DW.COM