1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خود کُش حملے:’سب مر جائیں گے، تم زندہ رہو گے‘

تیرہ سالہ شیر زئی یا پھر چودہ سالہ امان اللہ کو خود کُش حملے کرنے کے لیے تیار کیا گیا لیکن حسنِ اتفاق سے وہ اپنے عزائم کی تکمیل سے پہلے ہی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔ اِس طرح وہ بھی بچ گئے اور لاتعداد دیگر انسان بھی۔

افغان بچہ فضل الرحمٰن، جسے حملہ کرنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا

افغان بچہ فضل الرحمٰن

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے ایک جائزے کے مطابق شیر زئی کو اُس کے ایک قریبی عزیز نے 170 ڈالر کے مساوی رقم کے عوض طالبان کو فروخت کر دیا۔ کابل میں نوعمروں کے ایک اصلاحی مرکز میں موجود شیر زئی نے بتایا، ’’پھر طالبان نے مجھے ایک خود کُش حملہ کرنے کے لیے کہا۔ اُنہوں نے مجھے بتایا کہ تم شہید ہو گے اور جنت میں جاؤ گے‘‘۔

افغان صوبے پکتیا کے دارالحکومت گردیز سے تعلق رکھنے والا شیر زئی ایک چرواہا ہے، جس کا باپ فوت ہو چکا ہے اور ماں بیمار ہو کر بستر سے لگی ہوئی ہے۔

شیر زئی کو جلد ہی طالبان کے قبضے سے فرار ہونے کا موقع مل گیا لیکن وہ گرفتار ہو گیا اور عدالت نے اُسے نوعمروں کے اصلاحی مرکز میں بھیج دیا، جہاں اب وہ تعلیم کے حصول کے علاوہ قالین بُننے اور کپڑے سینے کی تربیت بھی حاصل کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر بھی سیکھ رہا ہے۔

کابل میں نوعمروں کے اصلاحی مرکز میں خود کُش حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں رکھے گئے بچے

کابل میں نوعمروں کے اصلاحی مرکز میں خود کُش حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں رکھے گئے بچے

اُس کے ساتھ کمرے میں نو دیگر لڑکے بھی ہیں، جنہیں مختلف طرح کے جرائم کی پاداش میں یہاں بھیجا گیا ہے۔ اِنہی میں امان اللہ بھی ہے، جو تین مہینے سے یہاں ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ تب شمالی صوبے قندوز کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم تھا، جب اُسے ایک ایسی مسجد میں ایک خود کُش حملہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا، جہاں افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی اکثریت نماز پڑھنے جایا کرتی تھی۔ عین آخری لمحے میں امان اللہ نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

بھارت میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ مینیجمنٹ کے مطابق گزشتہ برس 140 خود کُش حملوں میں 1141 افراد ہلاک ہوئے۔ ستمبر میں اقوام متحدہ نے بتایا تھا کہ 2010ء کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران بم دھماکوں اور خود کُش حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 177 فیصد زیادہ رہی۔

اس سال اگست میں عیدالفطر کے موقع پر صدر حامد کرزئی نے بیس بچوں کو معافی دینے کا اعلان کیا، جن میں سے کچھ کی عمریں سات سات سال بھی تھیں۔ ان سب بچوں کو طالبان نے خود کُش حملوں کے لیے تیار کیا تھا۔ 9 سالہ غلام فاروق نے بتایا: ’’ہمارے مُلا ّ نے ہمیں بتایا کہ جب ہم خود کُش حملہ کریں گے تو ہمارے اردگرد موجود تمام لوگ مر جائیں گے لیکن ہم زندہ رہیں گے‘‘۔

’’ہمارے مُلا ّ نے ہمیں بتایا کہ جب ہم خود کُش حملہ کریں گے تو ہمارے اردگرد موجود تمام لوگ مر جائیں گے لیکن ہم زندہ رہیں گے‘‘

’’ہمیں بتایا گیا کہ جب ہم خود کُش حملہ کریں گے تو ہمارے اردگرد موجود تمام لوگ مر جائیں گے لیکن ہم زندہ رہیں گے‘‘

ایک افغان اہلکار کے مطابق 60 فیصد خود کُش حملوں میں نو عمر ہی ملوث ہوتے ہیں اور یہ کہ اس سال ایسے تقریباً 100 نوعمروں کو حملہ کرنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

دوسری جانب طالبان خود کُش کارروائیوں میں بچوں کے استعمال کے حوالے سے رپورٹوں کو بے بنیاد اور محض ایک پراپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈی پی اے سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ خود کُش حملوں کے لیے محض ایسے جنگجوؤں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جو مکمل طور پر ’با رِیش‘ ہوں۔ مجاہد نے بتایا: ’’ہمارے پاس سینکڑوں جنگجو ہیں، جو شہادت کے لیے اپنی باری کے منتظر ہیں، خود کُش حملے بچوں کا کام نہیں ہیں۔‘‘

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس