1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خود کش حملے پر آمادہ ایک افغان نوجوان کی کہانی

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے رہنے والے سترہ سالہ اسلام الدین نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن وہ کوئی خود کش بمبار بن جائے گا یا طالبان عسکریت پسندوں کا ساتھی ہو گا۔

default

سترہ سالہ اسلام الدین اپنے والد کی کئی برس پہلے وفات کے بعد سے گھر کا واحد کفیل تھا۔ لیکن اس واقعے نے اس کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ پہلے وہ اپنے روزانہ کے معمولات کے بارے میں گھر والوں سے جھوٹ بولنے لگا، پھر اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس کے لیے یہ دنی‍ا اب کوئی معنی نہیں رکھتی اور وہ بڑی خوشی سے اگلی دنیا میں جائے گا۔

اسلام الدین نے خبر ایجنسی روئٹرز کو ابھی حال ہی میں بتایا کہ تقریباﹰ 18 ماہ قبل اس نے طالبان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا، جہاں اسے مستقبل کا ایک خود کش حملہ آور بنانے کے لیے باقاعدہ ٹریننگ دی گئی تھی۔

اس افغان نوجوان نے بتایا، ’’میں بہت پریشان تھا۔ اس واقعےنے مجھ پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے۔ اپنے دوست کی ہلاکت کے بعد میں تنہا رہ گیا تھا۔ دنیا میرے لیے بالکل بیکار اور انتہائی حد تک بیزار کن ہو گئی تھی۔‘‘

Gewalt an Frauen in Afghanistan

گزشتہ چھ ماہ کے دوران افغانستان میں خود کش بم حملوں میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے

سترہ سالہ اسلام الدین چار ماہ بعد افغانستان کے صوبے قندوز میں ایک امریکی فوجی قافلے پر بم حملے کے منصوبے کے سلسلے میں پکڑا گیا۔ اس کو اس جرم پر ساڑھے چار سال قید کی سزا ہوئی۔ اب وہ ایک حراستی مرکز میں اپنی سزا کاٹ رہا ہے۔

اسلام الدین کی والدہ نے خبر ایجنسی روئٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اسلام الدین ایسا ہرگز نہیں تھا۔ ’’لیکن جب سے میرا بھتیجا، جو اس کا گہرا دوست تھا، امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہے، اس ہلاکت نے میرے بیٹے کو بدل کر رکھ دیا اور طالبان نے اس موقع کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔‘‘

اسلام الدین کی والدہ کے بقول، ’’جب بھی میں اسلام الدین کے بارے میں سوچتی ہوں، تو پریشان ہو جاتی ہوں۔ وہ بچہ تھا اور طالبان نے اسے اپنے غلط مقاصدکے لیے استعمال کیا۔‘‘

خود کش بم دھماکے کرنا طالبان کا افغان سکیورٹی فورسز اور نیٹو کے فوجی دستوں پر حملے کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے۔ یہ طریقہ زیادہ پرانا نہیں ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے پہلا خود کش حملہ سن 2004 میں کیا گیا تھا۔

ایسے متاثرہ افراد میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے، جن کو طالبان اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم بہت سے افغانی اس طرح کے حملوں کی شدید مذمت بھی کرتے ہیں اور کئی نامور علماء تو ایسے خود کش حملوں کو اسلام کے سراسر منافی قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ چھ ماہ کے دوران افغانستان میں خود کش بم حملوں میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کابل میں وزارت داخلہ کے مطابق افغان پولیس اب تک 20 ممکنہ خود کش حملہ آوروں کو گرفتار کر چکی ہے۔ ان میں سے کئی ایک نے بیرون ملک تربیت بھی حاصل کی تھی اور ان میں سے متعدد غیر ملکی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں مقامی خود کش حملہ آوروں کی تعداد میں اضافے کی بڑی وجوہات میں بیروزگاری، معاشی مسائل اور آخرت کی زندگی میں انعام کی خواہش جیسے عوامل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی ممکنہ حملہ آوروں کو اپنے اہل خانہ یا دوستوں کی ہلاکت کا انتقام لینے کی سوچ بھی یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس