1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خود کش حملے میں طالبان مخالف رہنما ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں پیر کو مختلف پرتشدد واقعات اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران سات شدت پسندوں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

Pakistan Flash-Galerie

جنوبی وزیرستان سے بھی نقل مکانی شروع

ان میں ایک طالبان مخالف مذہبی رہنما بھی شامل ہیں، جو صوبہء سرحد کے ضلع بنوں میں خودکش حملے کا نشانہ بنے۔

اِس حملے کے نتیجے میں طالبان مخالف ایک رہنما سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے اپنی کار عبدالحکیم کی گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں نہ صرف وہ بلکہ ان کے تین محافظ بھی ہلاک ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں ایک راہ گیر خاتون زخمی بھی ہوئی۔ یہ دھماکہ ضلع بنوں کے نواحی علاقے بکاخیل میں ہوا۔ عبدالحکیم حکومت نواز مذہی رہنما تھے۔ وہ پرتشدد کارروائیوں پر طالبان کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں خودکش دھماکوں کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔

بنوں پولیس کے سربراہ محمد اقبال مروت نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عبدالحکیم کی جانب سے فتوے کے اجراء پر طالبان خوش نہیں تھے۔

گزشتہ ہفتے کے روز بنوں اور پشاور میں دو الگ الگ خودحملوں میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ طالبان نے بنوں کے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی، جس میں 11افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے اس حملے کو اپنے رہنما بیت اللہ محسود کی موت پر انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔ طالبان نے حکومت اور سیکیورٹی اہداف پر حملے بڑھانے کی دھمکی بھی تھی۔

2 Waziristan.jpg

شمالی وزیرستان میں ایک سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک

صوبہء سرحد کا ضلع بنوں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ساتھ واقع ہے، جہاں پیر کو سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپوں میں ایک فوجی کے ساتھ ساتھ سات طالبان بھی ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق طالبان نے رزمک میں نیم فوجی دستے کے ایک کیمپ پر راکٹ فائر کیا، جس کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔

اس کے ردعمل پر سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقوں مکین اور لدھا میں انتہاپسندوں کے ٹھکانوں کا محاصرہ کر لیا۔ اس دوران لڑائی کے نتیجے میں سات طالبان مارے گئے۔

دوسری جانب جنوبی وزیرستان میں فوج اور طالبان کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں سینکڑوں افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ خبررساں ادارے AP نے نقل مکانی کرنے والے افراد کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے طالبان اور سیکیورٹی فورسز نے ان پر علاقہ چھوڑنے کے لئے زور دیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM