خود کش حملہ، لاہور خوف میں | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خود کش حملہ، لاہور خوف میں

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے ہونے والے خود کش حملے میں 13 ہلاک اور 70 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس حملے کے بعد کئی افراد ملک میں امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

اس دہشت گردانہ واقعہ کی ذمہ داری طالبان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کر لی ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ  لاہور بلاسٹ سب سے زیادہ ٹریند کر رہا ہے۔ اس حملے میں لوگ متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کر رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے،'' کراچی، کوئٹہ اور لاہور میں ہونے والے حملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دشمن کمزور تو ہوا ہوگا لیکن وہ اب بھی موجود ہے، ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہیں۔‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے اس حوالے سے ٹوئٹ میں لکھا،’’ میں لاہور دھماکے پر انتہائی افسردہ اور حیران ہوں۔ میری دعائیں تمام متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔‘‘

پاکستانی صحافی امل خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا،’’ میں جب تک زندہ ہوں، اس ماں کی آنکھوں کو کبھی نہ بھول پاؤں گی جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ میرا بیٹا تو صرف سترہ سال کا ہے، وہ تو اسکول جاتا ہے۔‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سیف اللہ نیازی نے ٹوئٹ کی،’’ لاہور دھماکے کے بعد وسطی اور جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف رینجرز کو آپریشن شروع کرنا چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ ایک پاکستانی چینل سے گفتگو میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ لاہور کے گنجان علاقے چیئرنگ کراس پر اگر ڈرگ ڈیلرز ایسوسی ایشن کا احتجاج نہ ہوتا تو یہ دہشت گردانہ حملہ بھی نہ ہوتا۔ رانا ثنا اللہ کے بیان کو بھی کئی افراد نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

صحافی طٰحہ صدیقی نے پاکستانی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا،’’ پاکستانی میڈیا بیرونی طاقتوں کو لاہور دھماکے کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ کوئی بھی پاکستان میں گڈ طالبان اور شدت پسندی کے خلاف بات نہیں کرتا۔‘‘

سیاسی جماعت اے این پی کے رہنما افراسیاب خٹک نے ٹوئٹ میں لکھا، ’’ ریاستی پالیسی کو شدت پسندانہ عسکریت پسندی سے اپنے آپ کو جدا کرنا ہوگا۔‘‘

پاکستانی صحافی رانا جواد نے پاکستان سپر لیگ اور لاہور حملے کے ‌حوالے سے ٹوئٹ میں لکھا،’’ پی سی بی کی جانب سےچند روز قبل یہ اعلان کے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کھیلا جا رہا ہے، لاہور میں انتہائی دردناک حملہ کیا جاتا ہے، یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔‘‘ رانا جواد کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے سرل المائیدا نے لکھا،’’  کیا گزشتہ برس ایسٹر کے موقع پر حملہ بھی محض اتفاق تھا۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات