1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’خود کش حملہ آوروں کی تیاری ، شمالی وزیرستان میں‘

سخی سرور کے دربار پر ناکام خود کش حملہ کرنے والے چودہ سالہ لڑکے نے بتایا ہےکہ خود کش حملوں کے لیے قریب چار سو افرادکو تربیت دی جا رہی ہے۔ عمر فدائی نے کہا ہے کہ ان افراد کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں تربیت دی جا رہی ہے۔

default

تیرہویں صدی عسیوی کے معروف صوفی بزرگ حضرت احمد سلطان المعروف سخی سرور کے دربار پر ناکام خود کش حملے کے نتیجے میں زخمی ہو جانے والے عمر فدائی نے جمعہ کو ہسپتال میں صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان میں خود کش حملہ کرنے کے لیے تربیت شمالی وزیرستان کے مرکزی علاقے میرعلی کے نواح میں ہی دی جاتی ہے،’ شمالی وزیرستان کے شہر میر علی میں ساڑھے تین سو تا چار سو افراد کو خود کش حملہ کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے‘۔

پاکستان کے کئی نیوز ٹیلی وژن چینلز پر نشر کیے گئے انٹرویو میں عمر نے مزید بتایا‘ مجھے دو ماہ تک تربیت دی گئی، اس دوران میں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے دیگر لڑکے بھی تربیت حاصل کر رہے تھے‘۔ عمر نے بتایا،’ خدا نے مجھے نئی زندگی عطا کی ہےتاہم مجھے افسوس ہے کہ ہم نے معصوم لوگوں کو ہلاک کیا‘۔

عمر فدائی نے اپنے انٹر ویو میں کہا کہ اسے بتایا گیا تھا کہ اس نے افغانستان میں غیر مسلموں کو ہلاک کرنا ہے،’ لیکن وہ مجھے ڈیرہ غازی خان لے گئے۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہاں کوئی کافر نہیں ہے تو انہوں نے مجھے کہا کہ یہ لوگ کافروں سے زیادہ بد تر ہیں‘۔

Selbsmordanschlag in Pakistan

گزشتہ چار برس کے دوران مختلف حملوں کے نتیجے میں پاکستان بھر میں کم ازکم 4200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

عمر نے بتایا کہ میر علی میں واقع ایک سکو ل کے باہر ہی اسے ایک شخص ملا ،جس نے اسے بتایا کے پڑھنے لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس لیے جنگجو بن جاؤ،’ اس نے مجھے کہا کہ تم سیدھے جنت میں جاؤ گے۔‘ عمر فدائی نے اس شخص کی شناخت قاضی ظفر کے نام سے کی۔

عمر فدائی نے کہا کہ وہ خود کش حملوں سے پانچ روز قبل ہی ڈیرہ غازی خان پہنچ گئے تھے، جہاں انہوں نے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔’ہمیں تین اپریل کو خود کش جیکٹیں ملیں، ایاز نامی شخص نے ہمیں بتایا کہ ہم نے دربار پر کہاں کہاں حملہ کرنا ہے‘۔ سخی سرور کے دربار پر چار اپریل کو ہونے والے حملے میں پچاس افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

عمر کے مطابق وہ رکشوں اور منی بسوں میں بیٹھ کر سخی سرور کے دربار پہنچے۔ عمرکے بقول اسے کہا گیا تھا کہ وہ پہلے حملے کے تیس منٹ بعد حملہ کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمر نے جب حملہ کرنا چاہا تو اس کی خود کش جیکٹ نہ پھٹ سکی، اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔

ممکنہ طور پر خود کش حملہ آور بننے والے افراد کو پیغام دیتے ہوئے عمرفدائی نے کہا،’ برائےمہربانی، خودکش حملے کرنے سے انکار کر دو۔ ایسے حملوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے‘۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق جولائی 2007ء میں اسلام آباد کی لال مسجد پر حکومتی عسکری کارروائی کے بعد سے شروع ہونے والے مختلف حملوں کے نتیجے میں پاکستان بھر میں کم ازکم 4200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات