1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خود کشی: ہر چالیس سیکنڈز بعد ایک انسانی موت کی وجہ

دنیا بھر میں ہر چالیس سیکنڈز بعد کہیں نہ کہیں ایک انسان خود کشی کر لیتا ہے، سالانہ آٹھ لاکھ سے زائد اموات۔ پاکستان میں، جہاں دہشت گرد خود کش حملے بھی کرتے ہیں، گزشتہ عشرے کے دوران خود کشی کے رجحان میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

آج دس ستمبر ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے خود کشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے اگر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے بین الاقوامی اعداد و شمار بھی پریشان کن ہیں تو ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران خود کشی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق عالمی سطح پر خود کشی ہر چالیس سیکنڈز بعد ایک انسانی موت کی وجہ بنتی ہے۔ دنیا میں ہر سال آٹھ لاکھ سے زائد افراد خود کشی کر لیتے ہیں اور ان میں سے تین چوتھائی کم یا متوسط فی کس آمدنی والے ملکوں کے شہری ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بین الاقوامی سطح پر پندرہ سے انتیس برس تک کی عمر کے نوجوانوں میں اموات کی دوسری سب سے بڑی وجہ خود کشی ہے۔

پاکستان میں خود کشی کی وجہ سے اموات کے بارے میں سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کوئی سالانہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے جاتے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران ملک میں خود کشی کا رجحان بڑھا ہے۔ انہی جان لیوا واقعات کا ایک پہلو دہشت گردوں کی طرف سے کیے جانے والے خود کش حملے بھی ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''خود کشی کرنے والا کوئی عام انسان تو بس اپنی ہی جان لیتا ہے۔ لیکن خود کش حملہ کرنے والا اپنے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر انسانوں کی موت کی وجہ بھی بنتا ہے۔ اپنی موت کے لیے تیار کوئی بھی دہشت گرد یا خود کش حملہ آور جو بھی بم دھماکا کرتا ہے، وہ پہلے ایک خود کشی ہوتا ہے اور پھر ایک قاتلانہ دہشت گردانہ حملہ۔‘‘

دنیا میں ہر سال آٹھ لاکھ سے زائد افراد خود کشی کر لیتے ہیں

دنیا میں ہر سال آٹھ لاکھ سے زائد افراد خود کشی کر لیتے ہیں

اسلام آباد پولیس کے اس اہلکار نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''میرے لیے یہ بات ایک سوال ہے کہ کیا پاکستان میں خود کش حملوں کو ایک طبی مسئلے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب متعلقہ حکومتی شخصیات اور ماہرین ہی دے سکتے ہیں۔‘‘

اس اہلکار کے مطابق پاکستان میں خود کش حملے کرنے والے شدت پسند اپنے ساتھ سینکڑوں معصوم شہریوں کی جان بھی لے لیتے ہیں اور ساتھ ہی بہت سے خاندانوں کو سماجی اور مالیاتی طور پر تباہ بھی کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں خواتین کی بہبود کے لیے سرگرم ایک تنظیم ویمن ایڈ ٹرسٹ کی ڈائریکٹر شاہینہ خان نے خود کشی کے رجحان کے بارے میں ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر نظر ڈالیں تو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خود کشی کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری طرح انجام دینی چاہییں۔

شاہینہ خان نے بتایا کہ سوشل ورکرز 'سروس پرووائڈر‘ ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کی مالی، معاشی یا نفسیاتی مدد کرتے ہوئے انہیں مایوسی سے نکال کر دوبارہ پرامید بناتے ہیں۔ کوئی شہری خود کشی جیسے انتہائی اقدام کا فیصلہ تبھی کرتا ہے، جب اس کی سوچ اور دسترس کے مطابق باقی تمام راستے اور حل معدوم ہو جاتے ہیں۔

پاکستانی دارالحکومت کی رہنے والی ماہر نفسیات اور سوشل ورکر فوزیہ خالد نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ خود کشی کا رحجان غریب ملکوں میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا، ''غریب معاشروں میں بے روزگاری، ذہنی پریشانیاں، سماجی ناانصافیاں، مالی تنگ دستی، معاشرتی دباؤ اور محرومی کا احساس ترقی یافتہ معاشروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں اور یہی بات نا امید ہو جانے والے شہریوں کو خود کشی یا خود کشی کی کوشش پر مجبور کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان بھی ہے۔‘‘

فوزیہ خالد کے مطابق پاکستان میں خود کشی کا رجحان اس لیے بڑھ رہا ہے کہ آبادی میں بے تحاشا اضافے، غربت، ناخواندگی، شدید سماجی رویوں، ڈپریشن اور قطعی طور پر ناکام ہو جانے کے احساس جیسے عوامل کا نتیجہ خود کشی کی کوشش کی صورت میں نکلتا ہے۔

کوئی معاشرہ اپنے ہاں خود کشی کے رجحان کا تدارک کیسے کر سکتا ہے؟ اس بارے میں سماجی محقق اور معروف ماہر عمرانیات ذوالفقار راؤ نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ سب سے اہم عنصر سماجی سطح پر کنٹرول کیے جانے کا عمل اور احساس ہے۔ بہت سی باتیں معاشرہ کنٹرول کرتا ہے۔ اگر کسی کو طلاق ہو گئی، کسی کی بیٹی، بھائی یا قریبی رشتے دار سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو گیا جسے معاشرہ پسند نہیں کرتا، تو متعلقہ فرد ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے طعنے دیے جاتے ہیں، مارا پیٹا جاتا ہے۔

’’غربت، ناخواندگی، شدید سماجی رویوں، ڈپریشن اور قطعی طور پر ناکام ہو جانے کے احساس جیسے عوامل کا نتیجہ خود کشی کی کوشش کی صورت میں نکلتا ہے‘‘

’’غربت، ناخواندگی، شدید سماجی رویوں، ڈپریشن اور قطعی طور پر ناکام ہو جانے کے احساس جیسے عوامل کا نتیجہ خود کشی کی کوشش کی صورت میں نکلتا ہے‘‘

ذوالفقار راؤ کے بقول ترقی یافتہ معاشروں میں ایسے افراد کے لیے بلاتاخیر ماہرین نفسیات سے رجوع کیا جاتا ہے لیکن پاکستان جیسے معاشروں میں انہیں 'پاگل‘ اور ’ذہنی مریض‘ قرار دے کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے: ''اس طرح ایک فرد کی غیر صحت مند ذہنی حالت پورے خاندان کو برباد کر دیتی ہے اور مڈل کلاس کہلانے والے سماجی طبقے میں تو والدین اور بچوں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

ماہر عمرانیات راؤ نے کہا کہ پاکستان میں اکثر ایسے نوجوان بھی اپنی کم عمری کے باعث یا جذبات میں آ کر خود کشی کی کوشش کرتے ہیں، جن کی والدین یا استاد نے سرزنش کی ہو، جن کا تعلیمی رزلٹ اچھا نہ رہا ہو یا جو کسی مقابلے میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔

ذوالفقار راؤ کے مطابق ایسے شہریوں کو یہ باور کرانا فیصلہ کن بات ہوتی ہے کہ وہ اپنے، اپنے اہل خانہ اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں: ''ایک بار خود کشی کی کوشش میں ناکام رہنے والے افراد میں یہ امکان ہمیشہ ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی جان لینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہیں پریشان یا اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ان کی وقفے وقفے سے نفسیاتی کونسلنگ ہوتی رہنی چاہیے۔‘‘