1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’خود کشی کا معاہدہ‘ ، ایک بہن مر گئی دوسری بچ گئی

امریکی حکام نے کہا ہے کہ آسٹریلوی جڑواں بہنوں نے خود کشی کے باہمی معاہدے کے تحت ایک دوسرے پر فائر کئے، جس کے نتیجے میں ایک بہن موقع پر ہی ہلاک ہو گئی جبکہ دوسری شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گئی ہے۔

default

امریکی پولیس کے مطابق یہ واقعہ تین روز قبل ڈینور میں واقع ایک شوٹنگ رینج پر پیش آیا۔ زندہ بچ جانے والی بہن سے تفتیش کے بعد مقامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعی باہمی خودکشی کا ایک معاہدہ تھا، جس کے تحت دونوں نے ایک دوسرے پرفائرنگ کی۔

بتایا گیا ہے کہ وکٹورین سسٹرز کی عمریں 29 سال تھیں اور دونوں نے ایک دوسرے کے سر میں فائر کیا۔ مقامی پولیس افسر Louie Perea نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ زندہ بچ جانے والی بہن نے معلومات فراہم کی ہیں تاہم یہ نہیں بتایا کہ دونوں نے خود کشی کی کوشش کیوں کی،’ موقع سے ملنے والے شواہد سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خودکشی کی ہی کوشش تھی۔‘

Bild des Tages 21.12.2006, Schneesturm in Denver

یہ واقعہ ڈینور کی ایک شوٹنگ رینج پر پیش آیا

زندہ بچ جانے والی خاتون کے سر میں شدید چوٹ آئی تھی تاہم دماغ کی سرجری کے بعد وہ اب خطرے سے باہر ہے۔ اس حادثے کے تین دن بعد پولیس نے اس سے تفتیش کی۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ جب تک مکمل تحقیقات نہیں کر لی جاتیں، تب تک ان خواتین کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔

امریکی ریاست کولوراڈو میں خود کشی کرنا جرم نہیں ہے۔ اس لئے زندہ بچ جانے والی خاتون کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان بہنوں کا تعلق آسٹریلوی شہر ملبورن سے تھا۔ ان کے والدین سن 1970ء میں جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا چلے گئے تھے اور ان بہنوں کی پرورش آسٹریلیا میں ہی ہوئی تھی۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ زندہ بچ جانے والی بہن اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور اس کے والدین آسٹریلیا سے امریکہ پہنچنے والے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM