1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خود مختار فلسطینی علاقوں میں سزائے موت کا قانون

کئی دیگرممالک کی طرح سزائےموت کا قانون فلسطینی علاقوں میں بھی موجود ہے۔ حقوقِ انسانی کے لئے سرگرم فلسطینی تنظیمیں اِس قانون کے خلاق صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں لیکن غالباً فلسطینی انتظامیہ کو بوجوہ اِس کی ضرورت ہے۔

default

فلسطینی خفیہ ادارے کے لئے کام کرنے والا 23 سالہ Thaer Ermeliat آج کل چھپ کر زندگی گزار رہا ہے۔ اُسے فلسطینی فوجی عدالت نے اپریل میں موت کی سزا سنائی تھی۔ Ermeliat پر الزام ہے کہ اس نے تلکرم کے علاقے میں قومی سلامتی کے شعبے سے وابستہ ایک عہدیدار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اسی طرح اپریل میں ایک اور فلسطینی عماد سعید سعید کوغداری اور اسرائیل کے لئے مخبری کرنے پر ایک فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ لیکن شہری حقوق کے لئے قائم ایک آزاد فلسطینی کمیشن میں کام کرنے والے موسٰی ابو دہائم اس فیصلے سے متفیق نہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہی غیرقانونی طریقے سے کیا جاتا ہے۔ فوجی عدالتیں کم سے کم وقت میں مقدمے کو نمٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔ Ermeliat کے وکیل کوصرف ایک روز پہلے یہ بتایا گیا کہ اگلے روزعدالت میں پیشی ہے جبکہ قانون کے مطابق مقدمے کی تیاری کے لئے اُسے تین دن ملنے چاہییں تھے۔

Jassir Arafat

گیارہ نومبر سن 2004ء کو انتقال کر جانے والے سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات

فلسطین میں کچھ عرصے کے لئےسزائے موت عملی طور پر ختم کر دی گئی تھی۔ سن دوہزارمیں سابق فلسطینی صدر یاسرعرفات نے ایک فرمان کے تحت موت کی سزا کو معطل کر دیا تھا۔ لیکن تین سال پہلے صدر محمود عباس نے یہ سزا پھر سے نافذ کر دی۔

اس قانون کے دوبارہ نفاذ کے بارے میں ابو دہائم کا کہنا تھا۔" ایسا سیاسی صورتحال کی وجہ سے ہوا۔ خاص طور پر جون سن 2007ء میں غزہ پٹی پر حماس کے قبضے کے بعد فلسطینی انتظامیہ یہ دکھانا چاہتی تھی کہ حالات اُس کے کنٹرول میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سزائے موت کا دوبارہ نفاذ کیا گیا"۔

1994ء میں فلسطینی خود مختار انتظامیہ کے قیام سے لے کر اب تک 73 افراد کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ 18 افراد کی سزا پر عملدرآمد ہوا۔

راملّہ میں وزارت داخلہ کے متعلقہ شعبے کی سربراہHaitham Arar کا کہنا تھا: "میں ذاتی طور پر اس سزا کے خلاف ہوں لیکن فلسطین میں آج کل اِس موضوع پر گرما گرم بحث ہو رہی ہے۔ اِس سزا کے حامییوں کا مَوقف یہ ہے کہ ہمارے ملک کے حالات بہت خراب ہیں، ہمیں کئی داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا ہے اور ہم سزائے موت کا قانون نافذ کر کے کئی دوسرے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں جب حالات قدرے مستحکم ہوں گےتواِس موضوع پر پھر سے بحث شروع ہو گی اور تب شاید ہم اس سزا کو ختم کر دیں"۔

لیکن ہو سکتا ہے کہ حالات مستحکم ہونے میں دیر لگ جائے اور تب تک موت کی سزا پانے والے یہ دونوں فلسطینی شہری کب کے اگلے جہان میں بھی پہنچ چکے ہوں۔ لیکن دو باتیں اُمید دلاتی ہیں۔ ایک یہ کہ فلسطینی علاقوں میں اِس موضوع پر بحث زوروں پر ہے اور دوسری یہ کہ گذشتہ تین برسوں میں کسی بھی فلسطینی کو پھانسی نہیں دی گئی۔