1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خودکش حملہ آور میاں بیوی تھے: طالبان

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے ملحقہ علاقے میں ایک تھانے پر خود کش حملہ کرکے بارہ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر نے والا ایک عسکریت پسند جوڑا تھا۔

default

طالبان نے گزشتہ روز کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان احسان اللہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حملہ آور میاں بیوی تھے اور مستقبل میں بھی اسی طرز کی کارروائیاں مختلف حکمت عملی کے تحت کی جائیں گی۔ یہ واقعہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کولاچی کے تھانے میں پیش آیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ خودکار ہتھیاروں سے لیس کئی حملہ آوروں نے درجنوں پولیس اہلکاروں کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بھی بنائے رکھا۔

اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ دو گھنٹوں تک جاری رہی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس دوران دہشت گردوں نے پولیس کی بکتر بند گاڑی پر راکٹ بھی داغے۔ واقعے کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ چھ حملہ آوروں نے بھاری اسلحے اور دستی بموں کے ساتھ تھانے پرحملہ کیا تھا۔ انہوں نے حملہ آوروں کے ساتھ ایک خاتون کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔

Karte Pakistan mit Waziristan

نقشے پر وزیرستان کی مقامیت

عسکریت پسندوں کے ساتھ اس قسم کی کارروائیوں میں شاذ و نادر ہی خواتین شریک ہوتی ہیں۔ حالیہ کارروائی کو امریکہ کی حامی پاکستانی حکومت کے خلاف نئی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دہشت گردانہ کارروائیوں میں شدت بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے شہر ملتان میں اتوار کو ایک بم دھماکے میں کم از کم تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ملتان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قذافی چوک میں ایک موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار بھی کیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM