1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خودکش حملہ آور عورتیں

عراق کی وزارت داخلہ نے عورتوں پر مشتمل ایک دستہ تشکیل دیا ہے جو شہرکی نگران چوکیوں اور سرکاری عمارات میں کسی بھی مشتبہ عورت سے پوچھ گچھ کر سکیں گیں۔

default

عورتوں کے خودکش دھماکوں کی وجہ سے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

ایک طرف اگرچہ امریکی فوج اور عراقی حکام عراق میں امن و سلامتی کی بہتر صورت حال کی تعریف کرتے نہیں تھکتے، تو دوسری طرف عورتوں کے خودکش دھماکوں کی وجہ سے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مثلا ً فروری میں بغداد کی ایک مارکیٹ میں دو عورتوں نے چند منٹ کے وقفے سے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، جس کے نتیجے میں 100 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

جولائی کے آخر میں بغداد اور شمالی عراق میں 60 افراد دو خود کش دھماکوں کی بھینٹ چڑھ گے۔ شیعاؤں کے مذہبی اجتماع میں تین عورتوں نے اپنی جان پر کھیل کر بہت سے لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ Kirkuk شہر میں ایک مظاہرے کے دوران بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران 20 سے زائد مرتبہ عورتوں نے خودکش دھماکے کئے۔ جو لوگ اس طرح کے منصوبے بناتے ہیں ان کی یہ اب نئی کامیاب حکمت عملی ہے۔ کیونکہ پولیس اور فوج کے اچانک چھاپوں، سرحدوں پر سختی سے جانچ پڑتال اوربغداد کے اندر کڑی نگرانی کی وجہ سے مردوں کے لئے خود کش دھماکوں کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔

عورتوں پر زیادہ شک نہیں کیا جاتا اور مرد حضرات ان کی تلاشی لیتے ہوئے گھبراتے ہیں۔عراقی عورتوں کے سیاہ لمبے چغے کے نیچے دھماکہ خیز مواد چھپا لینا کوئی مشکل کام نہیں۔ امریکی فوجی کسی ایسی خاتون کو دیکھ کر دور سے ہی راستہ بدل لیتے ہیں۔

امریکی فوجی قیادت کا خیال ہے کہ ال قائدہ کے پاس آخری حربے کے طور پر یہی ہتھیار رہ گیا ہے۔عراق فوج کا خیال ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جن کے گھر کے افراد پولیس یا فوج کے ہاتھوں مارے گے۔ اور وہ بدلے کے طور پر ایسی کاروائی کرتی ہیں۔ عراق کی ایک خاتون صحافی Inas Saffa کا کہنا ہے:’’عورتیں خود کش حملے کیوں کرتی ہیں، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ کچھ وہ ہوتی ہیں جنہیں خاوند،والد یا بھائی کی طرف سے مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا ہوتا ہے۔ کچھ ایسی ہیں جنہیں اپنے خاوندوں نے خود کش حملے پر مجبور کیا ہوتا ہے۔ اور بعض وہ ہیں جو اپنے میاں یا خاندان کے کسی اور مارے جانے والے شخص کی موت کا بدلہ لیتی ہیں۔‘‘