1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خودکشی میں معاونت ’جائز‘ ہے، جرمن عدالت

جرمنی کی وفاقی عدالت برائے انصاف نے مخصوص حالات میں خودکشی میں معاونت کو قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ جمعہ کو ایک مقدمے کی سماعت کے بعد سنایا۔

default

جرمنی کی اعلیٰ فوجداری عدالت نے کہا ہے کہ خودکشی کے عمل میں معاونت محض ایسی صورت میں قانونی ہے، جب مریض واضح طور پر اپنی اس خواہش کا اظہار کر دے کہ اسے زندہ رکھنے کے لئے اختیار کیا گیا طریقہ ء علاج بند کر دیا جانا چاہئے۔

جج رُتھ رِسنگ نے کہا: ’’مصنوعی طریقے سے سانس بحال رکھنے کا آلہ بند کرنا یا خوراک کی فراہمی کے لئے لگائی گئی ٹیوب کاٹنا علاج بند کرنے کی قابل اجازت اقسام ہیں۔‘‘

یہ مقدمہ قریب المرگ کومہ کی شکار ایک ایسی خاتون سے متعلق ہے، جن کی بیٹی نے انہیں خوراک دینے کے لئے لگائی گئی ٹیوب کاٹنے کی کوشش کی تھی۔

ایریکا کیولمیر نامی اس خاتون کی عمر 70 سال سے زائد تھی۔ وہ پانچ سال تک کومہ کی حالت میں رہیں۔ تاہم اس سے قبل انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا تھا کہ وہ کومہ کی حالت میں چلی جائیں تو انہیں مصنوعی طریقوں سے زندہ نہ رکھا جائے۔

اِسی بناء پر کیولمیر کی بیٹی نے طبی قانون کے ایک ماہر وولف گانگ پوٹز کے مشورے سے کومہ کی شکار اپنی والدہ کو خوراک کی فراہمی کے لئے لگائی گئی ٹیوب کاٹنے کی کوشش کی تاکہ وہ مر سکیں۔ تاہم وہاں موجود طبی عملے نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی، جس کے بعد کیولمیر مزید دو ہفتے زندہ رہیں۔ پوٹز کو گزشتہ برس جرمن شہر فُلڈا کی عدالت نے اس حوالے سے سزا سنائی تھی، تاہم اب انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جرمنی میں خودکشی میں معاونت کے حوالے سے قانون اس سے قبل غیر واضح تھا۔ تاہم وفاقی عدالت نے 1994ء میں بھی ایک فیصلہ سنایا تھا کہ مریض خواہش ظاہر کرے تو علاج بند کیا جا سکتا ہے۔ کیولمیر کے حوالے سے پوٹز کے مقدمے میں فیصلے کی بنیاد عدالت کا یہی حکم تھا۔ تاہم اب تک یہ غیر واضح رہا کہ علاج بند کرنے کے عمل کو کس صورت میں مجرمانہ فعل تسلیم کیا جائے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM