1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خودورکوفسکی: جرمن اور امریکی تنقید پر روسی بیان

خودورکوفسکی کو دوسرے مقدمے کے تحت مجرم قرار دئے جانے پر جرمن اور امریکی تنقید پر ماسکو حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کریملن حکومت نے روسی فوجداری قوانین پر دئے گئے مغربی بیانات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

default

خودورکوفسکی پس زنداں: فائل فوٹو

روسی وزرات خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے مغربی ممالک روس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں اور اپنے کام سے کام رکھیں،’ ہم توقع کرتے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر تمام لوگ اپنےکام سے کام رکھیں گے اور عدالتی کارروائی پر کسی قسم کا بھی دباؤ ناقابل قبول ہوگا۔‘

روسی وزرات خارجہ کی طرف سے سخت لہجے میں جاری کئے گئے سفارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ایک قانونی معاملہ ہے اور اس حوالے سے امریکی اور جرمن تنقید بے بنیاد ہے۔ عدالتی فیصلے پر تنقید میں کہا گیا تھا کہ اس مقدمے میں خودورکوفسکی کو سیاسی ہدف بنا کر قصووار ٹھہرایا گیا ہے۔

مقید روسی تاجر اور آئل ٹائیکون میخائیل جو پہلے ہی آٹھ سال کی قید کاٹ رہے ہیں، روس اور مغربی ممالک کے مابین اختلافات کی ایک وجہ بنے ہوئے ہیں۔ ماسکو کی ایک عدالت نے پیر کو خودورکوفسکی کو چوری اور بدعنوانی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ اگرچہ خودورکوفسکی کو ابھی تک سزا نہیں سنائی گئی تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں مزید چھ سال کی قید سنائی جا سکتی ہے۔

Russland Dimitri Medwedew und Wladimir Putin auf dem Roten Platz in Moskau

پوٹن اور میدویدیف: وزیر اعظم اور صدر، فائل فوٹو

کچھ سال پہلے تک روس کی امیر ترین شخصیت کا اعزاز رکھنے والے میخائیل خودورکوفسکی کو پہلے مقدمے میں سنائی جانے والی پہلی آٹھ سالہ سزا قریب دس ماہ میں ختم ہونے والی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے روسی حکومت کے لئے خطرے کا باعث خودورکوفسکی کو آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل رہا نہیں کیا جائے گا۔ مغربی سفارتکاروں کے مطابق خودورکوفسکی کو مجرم قرار دئے جانے کےبعد اب شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ روس اپنے وعدوں کے مطابق اپنے ملک میں مجوزہ اصلاحات کے عمل پرسنجیدہ نہیں ہے۔

کئی ناقدین نے خدشات ظاہر کئے ہیں کہ اس معاملے پر امریکہ اور روس کے مابین سفارتی تعلقات میں کسی حد تک کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

میخائیل خودورکوفسکی کریملن حکومت کےکھلے ناقدین میں سے ایک ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے چونکہ خودورکوفسکی آئندہ صدارتی انتخابات میں اپوزیشن کو مالی مدد فراہم کر سکتے ہیں، اس لئے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے عمل کو طوالت دی گئی ہے۔

خودورکوفسکی کو جب سن 2003ء میں پہلی مرتبہ گرفتار کیا گیا تھا، اس وقت کے صدر اور موجودہ وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن کے خلاف وہ کھلے عام تنقیدی بیان دیتے تھے۔ یہ تاثر عام ہے کہ موجودہ وزیر اعظم پوٹن سن 2012ء کے صدارتی انتخابات میں ایک مرتبہ پھر بطور امیدوار سامنے آنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ابھی سے دور کرنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس