1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خودمختاری کے40 سال: بنگلہ دیش میں ہندو مساوی حقوق کے منتظر

چالیس سال قبل مشرقی پاکستان کے فوجی دستوں کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والی خونریز جنگ کے بعد ایک نیا ملک بنگلہ دیش وجود میں آیا تھا۔ اس وقت بنگلہ دیش میں آباد ہندوؤں کو اس ملک سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں.

default

ایک بنگالی ہندو نارائن چندر داس اپنی کہانی سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ نئے ملک کی ترقی اور اسے ایک مکمل فلاحی ریاست دیکھنے کے خواب سجائے بیٹھے تھے۔ جنگ کے دوران ہندو ہونے کی وجہ سے ان پر بھارتی فوج کا ایک ایجنٹ ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے۔ وہ کہتے ہیں ’’جب پاکستان آرمی نے ملک کے مشرقی ضلعے کمیلا میں واقع میرے گاؤں کو جلا دیا تو میں وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور جنگ کے اختتام پر یعنی 16دسمبر کو سیدھا اپنے آبائی وطن پہنچا‘‘۔

Flash-Galerie Cricket World Cup 2011

بنگلہ دیش کو ایک سیکیولر جمہوری ملک کے طور پر قائم کیا گیا تھا

آج آزادی ملنے کے چالیس سال بعد ملک میں ناتواں اسلامی قدروں اور ہندوؤں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو دیکھ کر نارائن چندر داس اداس نظر آتے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے بھائیوں نے آزادی کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انہوں نے بھی سیاسی کارروائیوں میں عملی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق وہ ایک ایسے ملک کا قیام چاہتے تھے جہاں تمام شہریوں کو کسی بھی تعصب سے بالاتر ہوکر برابر حقوق حاصل ہوں۔

پچپن سالہ داس کہتے ہیں کہ اتنے برسوں بعد وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ وہ بنگلہ دیش نہیں ہے جس کا انہوں نے کبھی خواب دیکھا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ملک کئی اعتبار سے آج بھی پاکستان جیسا ہی ہے۔ 1972ء کے دستور کی روشنی میں بنگلہ دیش کو ایک سیکیولر جمہوری ملک کے طور پر قائم کیا گیا تھا جہاں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مساوی حقوق کا اعلان کیا گیا تھا۔ مسلمان کل آبادی کا 80 فیصد تھے جب کہ بقیہ زیادہ تر تعداد ہندوؤں پر مشتمل تھی۔

Flash-Galerie Deutschland Bangladesch Ministerpräsidentin Sheikh Hasina in Berlin

شیخ حسینہ واجد کے 2009ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد حالات میں قدرے بہتری آئی ہے

اُس وقت ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان نے ہندو اقلیت کے ساتھ احسن سلوک روا رکھتے ہوئے سابق پاکستانی حکومت کی جانب سے ان کے خلاف نافذ کیے گئے پراپرٹی ایکٹ کا بھی خاتمہ کیا۔ اس ایکٹ کے تحت بھارت فرار ہو جانے والے ہندوؤں کا مال و اسباب ضبط کر لیا جاتا تھا۔ لیکن شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد ملٹری حکومت نے دستور میں تبدیلیاں لانا شروع کر دیں۔ انہوں نے اقتدار پر قابض ہوتے ہی ملک سے سیکیولرزم کا خاتمہ کرتے ہوئے اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا۔

بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے حقوق کے لیے سرگرم سبراتا چوہدری اس حوالے سے کہتے ہیں کہ اسلامی قدروں کو کمزور کرنے کا یہی آغاز تھا اور اس دوران ہندوؤں کے خلاف پراپرٹی ایکٹ کو ایک مختلف نام سے دوبارہ نافذ کر دیا گیا۔ اس تمام تر سیاسی ہنگامہ آرائی میں ہندوؤں کے حقوق کو بری طرح پامال کیا گیا اور 2001ء کے عام انتخابات کے بعد تو ان کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں مزید شدت آگئی تھی۔ حکومتی اعداد و شمار بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 1970ء کے بعد سے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی تعداد میں 10 سے 15 فیصد کمی آئی ہے۔

Sheikh Mujibur Rahman Flash-Galerie

ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان نے ہندو اقلیت کے ساتھ احسن سلوک روا رکھا

شیخ حسینہ واجد کے 2009ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد حالات میں قدرے بہتری آئی ہے اور آمریت کے دور میں ہندوؤں کے خلاف نافذ کیے جانے والے کئی اقدامات کا خاتمہ بھی کر دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ نے گزشتہ ماہ ہی سابقہ حکومتوں کی جانب سے ضبط کی گئی ہندوؤں کی جائیدادیں واپس کرنے کا تاریخی بل بھی منظورکیا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے حقوق کی آواز بلند کرنے والے تحریک آزادی کے کارکن سی آر دتہ ان اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں کی ذہنیت اب تبدیل ہو رہی ہے اوران کی برادری حالات کی بہتری کے لیے پر امید ہے۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM