1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہو گا، چینی صدر

چینی صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک اپنی خودمختاری کا دفاع تندی اور جانفشانی سے کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ جارحیت کے خلاف ہے لیکن کسی حملے کے پیش نظر ملکی فوج جنگ کے لیے تیار رہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے فوج سے کہا ہے کہ وہ اصلاحات اور خود کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کو تیز کر دے۔ پیپلز لبریشن آرمی کے نوے برس مکمل ہونے کے موقع پر یکم اگست بروز منگل انہوں نے بیجنگ میں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ کمیونسٹ پارٹی اور فوج کی اعلیٰ قیادت سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ چین جارحیت کے خلاف ہے لیکن ان کا ملک تمام حملہ آوروں کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہے۔

چین میں زبردست عسکری پریڈ

جنوب مشرقی ايشيائی ممالک بيرونی مداخلت کو رد کريں، چين

بھارت کسی زعم میں نہ رہے، سرحد کا دفاع کرنا جانتے ہیں، چین

چینی صدر کا یہ پیغام ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب کمیونسٹ پارٹی کو نیم خود مختار علاقے ہانگ کانگ میں سیاسی مزاحمت کا سامنا ہے۔ چین کے اس نیم خود مختار علاقے کے کئی حلقوں کے مطابق بیجنگ اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ جنوبی چین کا تنازعہ بھی سر اٹھا رہا ہے جبکہ بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔

اس تناظر میں چینی صدر نے کہا، ’’ہم کسی گروہ، ادارے یا سیاسی پارٹی کو چین کے کسی علاقے کو تقسیم نہیں کرنے دیں گے۔‘‘ بیجنگ کے گریٹ ہال میں خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے اصرار کیا کہ سکیورٹی اور ترقیاتی معاملات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سن دو ہزار بارہ میں اقتدار سنبھالنے والے شی نے حکمران پارٹیوں کے ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے اور ساتھ ہی سرحدی تنازعات پر سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔

شی جن پنگ ملکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی خاطر کئی اقدامات بھی اٹھا چکے ہیں۔ ماضی میں کے مقابلے میں اب چینی حکومت اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ بھی کھل کر رہا ہے۔ اتوار کے دن ہی چین ميں ایک بڑی فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گيا تھا، جس میں شی جن پنگ فوجی وردی میں ملبوس ہو کر شریک ہوئے تھے۔

پیپلز لبریشن آرمی کی 90 ویں سال گرہ کے تناظر میں منعقد کی گئی اس عسکری پریڈ میں 12 ہزار فوجیوں کے ساتھ ساتھ پانچ سو گاڑیاں بھی شامل تھيں۔ اس موقع پر فوجی ترانے بھی بجائے گئے جب کہ پریڈ میں لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ دور فاصلے تک مار کی صلاحیت کے حامل میزائل بھی شامل کیے گئے تھے۔ صدر شی جن پنگ نے عسکری پریڈ کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ چین کو ایک زبردست فوج کی ضرورت ہے۔

DW.COM