1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

خواتین ہر معاشرے میں خاص مقام کی حقدار ہیں

ڈوئچے ویلے کے شعبہ اُردو نے ایک سال قبل ’وجود زن‘ کے نام سے ایک خصوصی ویب سائیٹ پیج لانچ کیا تھا۔ اس کے ایک سال مکمل ہونے پر شعبہ اُردو کی سربراہ کشور مصطفیٰ کا پیغام۔

آج سے ٹھیک ایک سال قبل ڈی ڈبلیو شعبہ اُردو نے خواتین کے لیے ایک خصوصی ویب پیج متعارف کرایا تھا۔ 25 اگست 2016ء کو ’وجودِ زن‘ لانچ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم جرمنی میں بیٹھ کر دنیا بھر خاص طور سے جنوبی ایشیا میں پائے جانے والے اُن مسائل اور اُن کے ممکنہ حل کو اُجاگر کیا جائے، جن کا تعلق صنفی امتیاز سے ہے۔

’وجودِ زن‘ کے پلیٹ فارم سے ہم نے اس ایک سال کے عرصے میں یہ کوشش کی کہ مشرق و مغرب دونوں معاشروں میں خواتین کے کردار، ان کے مسائل اور ان کے معاشرتی مقام سے متعلق موضوعات پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالیں۔ ہماری مسلسل یہ کوشش رہی کہ ہم مغرب میں پائے جانے والے اس عام تصور اور خیال کو دور کریں کہ مشرقی معاشروں کی عورتیں محض استحصال کی چکی میں پستی رہتی ہیں۔ ہم نے ایسی خواتین، جنہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کیے اور مختلف کارنامے انجام دیے، اُن کو متعارف کرایا، اُن کی کارکردگی، قابلیت اور معاشرے میں اُن کے کردار پر روشنی ڈالی اور اپنے صارفین کو ان خواتین اور ان جیسی دیگر عورتوں کے بارے میں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع فراہم کیا۔ ہم اپنے فیس بُک صارفین سے فیڈ بیک لیتے رہتے ہیں اور اُن کے مشوروں اور رائے پر جہاں تک ہو سکے، عمل درآمد بھی کرتے ہیں۔

آج کے ترقی یافتہ دور کا تقاضا ہے کہ ہر معاشرے کو صنفی امتیاز سے پاک کیا جائے۔ عورتوں کو اُن کا اصل مقام حاصل ہو اور انہیں اُن کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوں۔ ساتھ ہی خواتین اور مردوں میں یہ شعور بھی بیدار ہو کہ دنیا میں تمام انسان قابل احترام ہیں اور ان کے حقوق یکساں ہیں۔ تعلیم، صحت اور مناسب روزگار ہر انسان کا حق ہے اور اُسے ملنا چاہیے۔ خواتین اور مردوں کے مابین باہمی احترام اتنا تو ہر معاشرے اور ثقافت کا حصہ ہونا چاہیے۔ جب ہم مغربی معاشروں میں خواتین کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو مغرب میں بھی ہمیں کئی طرح کے مسائل نظر آتے ہیں۔ تاہم ان کی نوعیت اور ہوتی ہے۔  بدقسمتی سے مشرقی، روایتی اور مردوں کی اجارہ داری والے معاشروں میں اس جدید دور میں بھی چند بنیادی مسائل ایسے ہیں جن کا حل جلد سے جلد تلاش کر لیا جانا چاہیے۔ جنوبی ایشیا اور افغانستان پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج بھی وہاں خواتین غیرت کے نام پر قتل کی جا رہی ہیں۔ وہاں بہت سے علاقوں میں آج بھی عورتوں میں بنیادی تعلیم کا فقدان ہے۔

ان کی صحت اور معاشرتی تربیت کا کوئی باقاعدہ بندوبست موجود نہیں۔ کہیں لڑکیوں پر تیزاب پھینکا جا رہا ہے تو کہیں انہیں کسی مرد کی غلامی میں دے دیا جاتا ہے، وہ بھی عقد کے نام پر۔ پاکستان ہو، بھارت یا بنگلہ دیش، ان ممالک کو آزاد ہوئے عشروں بیت گئے، لیکن وہاں خواتین ابھی تک اپنے حقوق اور مساوات کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ بڑے شہروں اور مراعات یافتہ طبقے کے علاوہ ان معاشروں میں خواتین کی اکثریت انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دکھائی دیتی ہے۔ تاہم یہ عورتیں ماں، بیٹی، بیوی اور بہن ہر روپ میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں، ساتھ ہی اپنی ہمت اور لگن سے اپنے خاندان اور معاشرے کو کچھ نہ کچھ دینے کی کوشش میں بھی مصروف ہیں۔ ان خواتین کی ایسی کوششوں کو سراہنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہم یہ کام اپنی ویب سائٹ اور فیس بُک کے ذریعے جاری رکھیں گے۔ آپ سب بھی ہمارا ساتھ دیجیے اور ڈی ڈبلیو شعبہ اُردو کی ویب سائٹ اور فیس بُک پیج بھی وزٹ کرتے رہیے۔

DW.COM