1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن

آج منگل کے روز دنیا بھر میں خواتین پرتشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے 1981 میں ہرسال عورتوں پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منا نے کی روایت ڈالی۔

default

اقوام متحدہ نے باقاعدہ طور پر17 دسمبرسن 1999 کواعلان کیا تھا کہ 25 نومبرعورتوں پرتشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا۔

اقوام متحدہ نے باقاعدہ طور پر17 دسمبرسن 1999 کواعلان کیا تھا کہ 25 نومبرعورتوں پرتشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں اب بھی خواتین کو کسی نہ کسی طور تشدد کا سامنا ہے اور اکثر وہ اس کے خلاف کچھ کر بھی نہیں سکتیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں ہرتین میں سے ایک عورت یا لڑکی کبھی نہ کبھی تشدد کا شکار ضرور بنی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان میں بھی حالات کچھ اچھے نہیں۔ کچھ روز قبل عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ شماریاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں سن 2000 سے سن 2008 تک کے دوران 11712 خواتین قتل کر دی گئیں۔ اس عرصے میں 5691 عورتیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ 12964 خواتین کو مارا پیٹا گیا۔ 10696 خواتین کو اغوا کیا گیا اور 764 کو ونی کی رسم کے تحت ان کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کیا گیا۔

اسی پس منظرمیں یہ امر اپنی جگہ باعث تشویش ہے کہ تقریبا دو ہفتے قبل عالمی اقتصادی فورم کی سن 2008 کے لئے گلوبل جینڈرسروے رپورٹ میں بھی خواتین کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ اور غیرتسلی بخش قراردیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں دنیا کے 130 ممالک کی فہرست میں میں خواتین کے مسائل کے اعتبار سے پاکستان چوتھے نمبر پر تھا۔