1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خواتین کے خلاف تشدد اور اس کے خاتمے کے خلاف عزم کا عالمی دن

آج دُنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا بین الاقوامی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام ِ متحدہ کے پرچم تلے عالمی سطح پر یہ دن منانے کا سلسلہ تقریباً دَس سال پہلے شروع ہوا تھا ۔

default

آج کے دن کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے دن کے طور پر اِس لئے منایا جاتا ہے کہ 1960 ء میں 25 نومبر کو یعنی آج ہی کے روز ڈومینکین ریپبلک میں فوجی آمر رافائیل ٹروخلیو کے دور حکومت میں منیروا، پارٹریا اور ماریا تیریسا نام کی تین بہنوں کو فوجی آمریت کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے بہیمانہ انداز میں قتل کروا دیا گیا تھا۔

میرابل سسٹرز کے نام سے جانی جانےوالی یہ تینوں بہنیں آمریت کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں نہ صرف پیش پیش تھیں بلکہ آمریت کے خلاف

BdT Internationaler Tag Kampf gegen Gewalt gegen Frauen Guatemala City

اگلے دنوں میں صنفی استحصال کے حوالے سے خصوصی سیمینارز کا اہتمام کیا گیا

مزاحمت کی واضح علامت کے طور پر بھی اپنی پہچان رکھتی تھیں۔ ان بہنوں کے قتل کے بعد اُس ملک کی عوام میں غم و غصہ کی جو لہر اٹھی، وہ ایک سال کے اندر اندر ہی اُس آمریت کے خاتمے کا باعث بن گئی۔ ان بہنوں کی آمریت سے آزادی اورانسانی حقوق کے حصول کے لئے کی جانے والی کوششوں نے نہ صرف یہ کہ ڈومینک ریپبلک بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کے لئے ایک مثال قائم کی۔

17 دسمبر 1999ء کو اقوام متحدہ نے 25 نومبر کے دن کو خواتین کے خلاف تشدد اور اس کے خاتمے کے عزم کے دن کے طور پر ہر سال منانے کا فیصلہ کیا تاکہ میرابل سسٹرز کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔ ہرسال کی طرح اِس سال بھی اگلے سولہ روز تک پوری دنیا میں خواتین پر تشدد کے خلاف مختلف تقاریب اور سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

Symbolbild Gewalt gegen Frauen in Spanien

خواتین کے خلاف تشدد کا علامتی نشان

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی 33 فیصد اور یورپ میں 12 سے 15 فیصد خواتین روزانہ ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہیں جبکہ دنیا میں ہر تین میں سے ایک عورت کو زندگی میں کبھی نہ کبھی جسمانی یا ذہنی طور پر بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1820 میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کو انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے تاہم دُنیا کے کئی ممالک میں اِس جرم کا ارتکاب کرنے والے سزا سے بچ جاتے ہیں۔ ایسے ہی ملکوں میں میانمار بھی شامل ہے، جہاں نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ زیادتی کے مرتکب حکومتی فوجیوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی۔ میانمار میں زیادتی کی شکار خواتین کی مدد کے لئے قائم تنظیم SWAN کی کارکن Hseng Nouong Lintner بتاتی ہیں کہ میانمار میں قائم فوجی حکومت کے ارکان روزانہ انسانی حقوق کی بے شمار خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کرتے ہیں کیونکہ جس خاندان کی کوئی خاتون اِس زیادتی کا نسشانہ بنتی ہے، وہ بعد میں گھر بار چھوڑ کر وہاں سے کہیں اور چلی جاتی ہے۔ اِس طرح میانمار کی فوج پورے کے پورے علاقوں کو انسانوں سے خالی کروا رہی ہے۔

آٹھ سال پہلے قائم ہونے والی SWAN نامی تنظیم کی طرف سے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق چھ سال کے عرصے کے اندر اندر صرف میانمار میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے 625 ٹھوس واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس