1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خواتین کے حقوق: بہترین علاقائی مثال نیپال

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں نیپال میں گھریلو تشدد کے خاتمے اور روزگار کی جگہوں پر خواتین کے لیے مساوی حقوق سے متعلق کی گئی قانون سازی کم از کم علاقائی سطح پر دیگر ریاستوں کے لیے بہترین مثال ہے۔

default

کٹھمنڈو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ بات عالمی ادارے کی ایک ایسی نئی رپورٹ میں کہی گئی ہے جس کا عنوان ہے، ’دنیا کی خواتین کے لیے ترقی: انصاف کی تلاش میں۔‘ اس رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کی سابقہ ہندو بادشاہت اور نئی جمہوریہ نیپال اور جنوبی ایشیا کی ایک اور چھوٹی سی بادشاہت بھوٹان دو ایسے ملک ہیں، جو اپنے ہاں عام شہریوں کی طرف سے ان کی ازدواجی زندگی میں تشدد کو واضح طور پر باقاعدہ جرم قرار دے چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی تنظیم برائے علاقائی تعاون یا سارک کی رکن ریاستوں کی تعداد یوں تو سات ہے، جن میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں، تاہم نیپال اور بھوٹان وہ وا‌حد مثالیں ہیں، جہاں خواتین پر گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے اس بارے میں متاثر کن قانون سازی بھی کی گئی ہے۔

BdT Tanz beim Einpflanzen von Reissamen

جنوبی ایشیا میں خواتین کے حقوق کی صورتحال بہت حوصلہ افزا نہیں ہے

ابھی حال ہی میں نئی دہلی میں جاری کی گئی اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو انصاف کی فراہمی اور ان کی ملکی عدلیہ تک رسائی کی سب سے اہم بنیاد یہ ہے کہ متعلقہ ریاست انہیں ایک ایسا قانونی اور آئینی ڈھانچہ مہیا کرے، جو ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہو۔

رپورٹ کے مطابق اس بارے میں نیپال کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ قوانین اگر مساوی بنیادوں پر تیار کیے جائیں، تو وہ معاشرے میں نئی اقدار کے ظہور میں آنے کے ضامن بننے کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر نئی تبدیلیوں کا سبب بھی بنتے ہیں۔

اس رپورٹ میں نیپال ہی میں ان قانونی ضمانتوں کو بھی سراہا گیا ہے، جن کے تحت پبلک سیکٹر میں نیپالی خواتین کو کم از کم بھی ایک تہائی نمائندگی کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں عالمی ادارے کی اس دستاویز میں نیپال کا موازنہ ہمسایہ ملک اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت سے کیا گیا ہے، جہاں نئی دہلی کی ملکی پارلیمان میں خواتین کو حاصل نمائندگی کا موجودہ تناسب صرف 11 فیصد بنتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس