1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

خواتین کی کم لباسی جنسی حملوں کا باعث: بھارتی سیاسی رہنما

بھارت کے شہر بنگلور میں میں نئے سال کی شب کئی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں دو مرد ایک خاتون راہ گیر پر حملہ کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

چار روز بعد آج بھی بھارت کے سوشل میڈیا پراسی حوالے سے متعلق ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ سماجی حلقے بھارت کی سیلیکون ویلی کہلائے جانے والے شہر بنگلور میں اتنی بڑی تعداد میں ہونے والے جنسی حملوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق بدھ کے روز پولیس نے خواتین پر جنسی حملے کرنے کے الزام میں چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

بنگلور کی پولیس نے ابتدائی طور پر اس بات سے انکار کر دیا تھا کہ شہر میں نئے سال کی شب کسی بھی نوعیت کے جنسی حملوں کے واقعات پیش آئے تھے۔ لیکن آج پولیس افسر ہیمنت نمبالکار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اِ س ضمن میں چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا پر نشر کی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سٹرک پر چلنے والی ایک لڑکی کو موٹر سائیکل پو سوار ایک لڑکا موٹر سائیکل سے اتر کر ہراساں کر رہا ہے۔

بنگلور  میں پیش آنے والے جنسی ہراس کے واقعات پر بھارت کی سیاسی جماعت سماج وادی پارٹی کے رہنما ابو عاظمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا  کے مطابق  ابو عاظمی کا کہنا ہے،'' اگر کوئی لڑکی اندھیرا ہو جانے کے بعد کسی بھی طرح کا جشن منانا چاہتی ہے تو اسے اپنے شوہر یا باپ کے ساتھ گھر سے نکلنا چاہیے نہ کہ اجنبی لوگوں کے ساتھ۔ ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے جو ہماری ثقافت کے خلاف جا رہے ہیں۔‘‘ بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق ابو عاظمی نے کہا کہ آج کے زمانے میں عورت جتنے کم لباس پہنتی ہے اسے اتنا ماڈرن کہا جاتا ہے۔

بھارت کی ریاست  کرناٹکا کے وزیرِ داخلہ جی پرمیشورا نے اس واقعہ کے بعد ایک بیان میں کہا،’’ نوجوان مغربی لباس ہی نہیں بلکہ مغربی خیالات کی نقالی بھی کر رہے ہیں اسی لیے کچھ لڑکیوں کو ہراساں کیا گیا ۔ ایسی چیزیں تو ہو جاتی ہیں۔‘‘

سوشل میڈیا پر کئی افراد نے ایسے رہنماؤں کے بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جوخواتین کو ہراساں کیے جانے پر اُنہی کو ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔ ٹوئٹر پر انے پیغام میں سُریش نے لکھا،’’ سیاست دانوں کی جانب سے انتہائی شرمناک بیانات دیے گئے۔ لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا تعلق ذہنیت سے ہے نہ کہ لڑکیوں کے لباس سے۔‘‘ ایک صارف نے لکھا، ’’ منی اسکرٹ نے شکایت کی کہ مجھے کسی نے چھیڑا ہے، برقعے نے کہا کہ اس نے تو مجھے بھی چھیڑا ہے۔‘‘  

 بالی وڈ کے نامور اداکار عامر خان نے لکھا،’’ ہم سب بنگلور واقعے پر دکھی بھی ہیں اور شرمندہ بھی کہ ہمارے ملک میں ایسا ہوا۔‘‘ فرحان اختر، وارُن دھاون اور سلیم خان سمیت بھارتی فلم انڈسٹری کے دیگر فنکاروں نے بھی بنگلور واقعے کی مذمت کی۔

یہ حالیہ واقعہ بھارت میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی عکاسی کرتا ہے۔ سن 2012 میں نئی دہلی میں ایک لڑکی کو بس میں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ لڑکی اس حملے کے بعد جانبر نہ ہوسکی تھی۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں ریپ سے متعلق قوانین سخت کر دیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود بھی ملک میں کئی خواتین کو ریپ کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔