1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

’خواتین کی ویاگرا‘ کو منظوری مل گئی

خواتین میں جنسی خواہش کی کمی کو دور کرنے والی پہلی دوا کو امریکا میں استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے۔ امریکا کی فُوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے تاہم اس کے سائیڈ ایفکٹس سے خبردار کرتے ہوئے اس کے محتاط استعمال کا مشورہ دیا ہے۔

امریکی ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ نے کہا ہے کہ گلابی رنگ کی یہ گولی جسے 'Addyi' کا برانڈ نام دیا گیا ہے، صرف سند یافتہ اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ طبی ماہرین کی طرف سے ہی لکھی جا سکے گی اور خصوصی فارمیسیز پر دستیاب ہو گی۔ ایف ڈی اے کی طرف سے یہ دوائی خاص طور پر الکحل یا شراب کے ساتھ استعمال کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔

'Addyi' کو ’فی میل ویاگرا‘ یا خواتین کی ویاگرا کا نام دیا گیا ہے تاہم یہ فائزر کمپنی کی شہرہ آفاق نیلے رنگ کی گولی ویاگرا سے بالکل مختلف طریقے سے کام کرتی ہے۔ ویاگرا وہ پہلی دوائی ہے جو مردانہ عضو کے تناؤ کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے 1998ء میں منظور کی گئی تھی۔

'Addyi' کا کیمیائی نام ’فلِیبَین سیرین‘ ہے اور ایک امریکی پرائیویٹ دوا ساز ادارے سپراؤٹ فارماسیوٹیکلز Sprout Pharmaceuticals نے اس کی فروخت کی اجازت کی درخواست دی تھی۔ خیال رہے کہ قبل ازیں FDA کی طرف سے خواتین کی جنسی قوت ابھارنے والی اس دوائی کو دو مرتبہ مسترد کر دیا گیا تھا۔ تاہم رواں برس فروری میں اس کی مارکیٹنگ کی حامی خواتین تنظیموں، سیاستدانوں اور دوا ساز کمپنیوں جیسے لابی گروپوں کی کوششوں سے اسے دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔

بنیادی طور پر ’فلِیبَین سیرین‘ کا تجربہ سن دو ہزار دس میں ایک جرمن دوا ساز کمپنی ’اِنگل ہائم‘ نے کیا تھا، جس دوران خواتین کو سر چکرانے، تھکاوٹ، متلی، بے خوابی، بے چینی، خشک منہ اور رات کے وقت پیشاب کے لیے اٹھنے جیسے منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سن دو ہزار گیارہ میں اس جرمن دوا ساز ادارے نے اس نئی دوائی کے تمام تر حقوق امریکی کمپنی سپراؤٹ کو بیچ دیے تھے۔

فائزر کمپنی کی شہرہ آفاق نیلے رنگ کی گولی ویاگر وہ پہلی دوائی ہے جو مردانہ مسائل سے دوچار افراد کے لیے 1998ء میں منظور کی گئی تھی

فائزر کمپنی کی شہرہ آفاق نیلے رنگ کی گولی ویاگر وہ پہلی دوائی ہے جو مردانہ مسائل سے دوچار افراد کے لیے 1998ء میں منظور کی گئی تھی

خواتین کی ویاگرا کام کیسے کرتی ہے؟

'Addyi' نامی یہ دوائی دراصل ایسی خواتین میں جنسی خواہش کی کمی کو دور کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے جنہیں ’مینوپاز‘ یا ماہواری کی معطلی سے قبل ہی جنسی طلب کے خاتمے یا کمی جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ صورتحال خواتین میں اکثر ذہنی دباؤ اور پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ اس مسئلے کو طبی زبان میں ’ہائپوایکٹیو سیکسوئل ڈیزائر ڈِس آرڈر‘ یا HSDD کا نام دیا جاتا ہے۔ اس گولی کو روزانہ کی بنیاد پر لیا جانا ضروری ہے۔

یہ دوائی ذہن کے ایسے کیمیائی مادوں پر اثر کرتی ہے جن کا تعلق مزاج اور رغبت سے ہے، بالکل اسی طرح جیسے ڈپریشن دور کرنے والی ادویہ کام کرتی ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق ابتدائی طور پر اس دوائی کی جانچ ڈپریشن کے علاج کے طور پر کی گئی تھی۔ ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ یہ دوائی خواتین میں جنسی خواہش میں اضافے کا سبب کیسے بنتی ہے تاہم محققین نے اس گولی کے استعمال سے ڈوپامین میں اضافے کا ذکر کیا ہے جس کا تعلق کھانے کے ساتھ رغبت سے ہے۔ اس کے علاوہ یہ سیروٹونِن serotonin کی سطح میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔ سیروٹونن کا تعلق شکم سیری کے احساس سے ہے۔