1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

خواتین کی شمولیت کے بغیر پاکستان کی معاشی ترقی ممکن نہیں

پاکستان میں عالمی بینک کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ملک کی شرح نمو اس سال 4.5 فیصد رہے گی تاہم خواتین کی شمولیت سے پاکستان کی شرح نمو سالانہ 7 سے 8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان میں ورلڈ بینک کے نمائندے ایلانگو پچامیتھو کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین مجموعی افرادی قوت کا صرف 22 فیصد ہیں۔ ملک کی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد کو بڑھا کر پاکستان اپنی سالانہ ترقی کی رفتار کو 7 سے 8 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اب بھی مردوں کی ایک بڑی تعداد خواتین کے کام کرنے کو معیوب سمجھتی ہے۔ سن 2014 میں عالمی اقتصادی فورم کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یمن کے بعد پاکستان دنیا میں صنفی مساوات کے لحاظ سے دوسرا بد ترین ملک ہے۔

اسلام آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر زینت جبار نے ڈی ڈبلیو سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’پاکستان کی افرادی قوت میں خواتین کے کل حصے کے درست اعداد و شمار حاصل کرنے کے لیے آج تک کوئی جامع تحقیق نہیں ہوئی ہے خاص طور پر دیہی علاقوں میں جو کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔‘‘ زینت جبار کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر خواتین کو تعلیم فراہم کرنے اور ہنر سکھانے کے لیے پروگرام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

صحافی مریم عثمان نے ڈی ڈبلیو سے اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ پاکستان میں خواتین آبادی کا 50 فیصد ہیں لیکن اس کے باوجود خواتین کو فیصلہ سازی اور پالیسی مرتب کرنے میں نمایاں پوزیشن نہیں دی جاتی۔‘‘

عالمی بینک کے نمائندے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ثقافتی اور سماجی چینلجز ہیں لیکن اگر خواتین کے پاس کوئی ہنر ہے اور اگر انہیں مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان کی معیشت میں خاطر خواہ بہتری آسکتی ہے۔

DW.COM