1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خواتین کی اوسط عمر اور تعلیم میں بہتری، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی خواتین کے حوالے سے تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کی اوسط عمر میں اضافہ دیکھا گیا ہےجب کہ تعلیم کے مواقع کے اعتبار سے بھی موجود صورت حال ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔

منگل کے روز جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق خواتین پر تشدد اور ملازمتوں کے مساوی مواقع جیسے معاملات میں ابھی تک واضح بہتری نہیں آئی، تاہم متوقع اوسط عمر اور تعلیم کے مواقع کے شعبوں میں دنیا بھر میں خواتین کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔

ورلڈ ویمن رپورٹ 2015ء کے مطابق خواتین کی متوقع اوسط عمر 72 برس ہو گئی ہے جب کہ مردوں کی متوقع اوسط عمر 68 برس ہے۔ دو دہائیاں قبل خواتین اور مردوں کی متوقع عمر بالترتیب 64 اور 60 برس تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق پیدائش کے وقت ماؤں کی موت کی شرح میں بھی 1990 اور 2013 کے درمیانی عرصے میں 45 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ مطابق سن 1990ء میں ایک لاکھ خواتین میں سے 380 بچے کی پیدائش کے وقت موت کے منہ میں چلی جاتی تھیں، جب کہ اب یہ تعداد 210 تک پہنچ گئی ہے۔

اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں لڑکیوں کی شادی اب قدرے زیادہ عمر میں ہو رہی ہے اور وہ اب زیادہ بہتر تعلیم یافتہ اور ورک فورس کا موثر حصہ ہیں۔

Bildergalerie Local Hero Sakina Jacoby

ماضی کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعلیم کو بہتر مواقع میسر ہیں

تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر کم عمری میں شادی کا مسئلہ اب بھی موجود ہے اور دنیا بھر میں 18 برس سے کم عمر کی قریب 26 فیصد لڑکیاں اس مسئلے کا شکار ہیں، تاہم سن 1995ء میں یہ شرح 31 فیصد تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق ملازمتوں کے مواقع کے اعتبار سے اب بھی خواتین اور مردوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے، جب کہ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے سن 2030 کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 77 فیصد مرد ملازمت کر رہے ہیں جب کہ خواتین کا صرف نصف یعنی 50 فیصد ملازمتوں کا حصہ ہے، اس کے علاوہ ایک ہی کام کرنے پر خواتین کو ملنے والی تنخواہ مردوں کو ملنے والے معاوضے سے بھی 10 تا 30 فیصد کم ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اب بھی دنیا کی ناخواندہ آبادی کا دو تہائی لڑکیوں پر مشتمل ہے اور اس نسبت میں گزشتہ دو دہائیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد کا معاملہ بھی تشویش کا باعث ہے اور دنیا بھر میں ہر تیسری خاتون کو اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے یا پڑتا ہے جب کہ تشدد کے ان واقعات سے متاثرہ خواتین میں سے صرف 60 فیصد ایسے واقعات رپورٹ کرتی ہیں۔