1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خواتین کو کم تنخواہ ملتی ہے، نئی ریسرچ

ایک ریسرچ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں ملازمت پیشہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں خاصی کم تنخواہ ملتی ہے اور بڑھاپے تک پہنچتے پہنچتے ان خواتین میں غربت کی شرح مرد ساتھیوں کے مقابلے میں قریب چالیس فیصد زیادہ ہو جاتی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے بینک یُو بی ایس کی ایک تازہ ریسرچ کے نتائج کے مطابق ترقی یافتہ ملکوں میں ایک مناسب نوکری پر کام کرنے والی خاتون اگر مسلسل کام کرتی رہے تو عمر ڈھلنے کے ساتھ وہ اپنے مرد ساتھی ملازمین کے مقابلے میں چالیس فیصد کم کمانے کے قابل ہوتی ہے۔

سفارتکاروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار گھریلو ملازمائیں

پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین کے لیے بڑھتے ہوئے چیلنجز

ایشیائی ملازمت پیشہ خواتین اورکساد بازاری

’حیض کے پہلے دن خواتین کی چُھٹی ہونی چاہیے‘

اس ریسرچ کے مطابق اوسط 25 برس کی ایک نوجوان خاتون اِسی عمر کے ایک مرد سے دس فیصد کم تنخواہ وصول کرتی ہے۔ اس ریسرچ کے محققین نے مزید واضح کیا کہ تنخواہ کا یہ فرق خاتون کے پچاسی برس کی عمرتک پہنچنے پر بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

محققین کے مطابق خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ عمر پاتی ہیں اور اس باعث بڑھاپے میں وہ غربت اور مالی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کی عام وجوہات میں مہنگائی اور افراطِ زر خیال کی گئی ہیں۔

Symbolbild Sitzung Meeting Büro (Colourbox)

ریسرچ کے مطابق اوسط 25 برس کی ایک نوجوان خاتون اِسی عمر کے ایک مرد سے دس فیصد کم تنخواہ وصول کرتی ہے

یہ امر اہم ہے کہ سوئس بینک کی ہدایت پر مرتب کی جانے والی اس ریسرچ میں خاص طور پر زیادہ تنخواہوں والے مرد و حضرات کو شامل کیا گیا تھا۔ بینک کے ویلتھ مینیجمنٹ شعبے نے اس ریسرچ کو نوکریوں کی تلاش اور حصول کے تناظر میں مرتب کروایا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی سن 2016 کی ایک رپورٹ میں بھی اسی اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا گیا تھا کہ دنیا بھر میں خواتین ملازمتوں کے دوران مردوں کے مقابلے میں کہیں کم تنخواہ وصول کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دنیا بھر میں خواتین کی تنخواہوں کو مردوں کے برابر لانے کے لیے 170 برس کا عرصہ درکار ہے۔

DW.COM