1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’خواتین کو فٹ بال تو دیکھنے دیا جائے‘

ایران کی فٹ بال ٹیم کے کپتان نے ایرانی صدر حسن روحانی سے درخواست کی ہے کہ وہ خواتین پر اسٹیڈیم میں فٹ بال میچ دیکھنے پر عائد پابندی کو ختم کریں۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ایران کی فٹ بال ٹیم کے کپتان مسعود شوجائی کا کہنا ہے،’’ حکومت کو چاہیے کو وہ ایسے اقدام اٹھائے، جن کے نتيجے ميں خواتین مستقبل میں فٹ بال اسٹیڈیم میں آ کر  مقابلوں کو دیکھ سکیں۔‘‘

آج تک کسی ایرانی کھلاڑی  نے ایسا مطالبہ کرنے کی ہمت نہیں کی ہے۔ خواتین پر فٹ بال کے مقابلے دیکھنے کی پابندی سن 1979 میں ایرانی انقلاب کے وقت سے عائد ہے۔ حال ہی میں ایران نے ازبکستان کو فٹ بال میچ میں شکست دے کر سن 2018 کے فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کو یقينی بنا لیا۔ فٹ بال کے اس مقابلے کے دوران کوئی خاتون موجود نہیں تھی لیکن میچ کے اختتام پر ہزاروں شائقین سڑکوں پر اپنی ٹیم کی فتح کا جشن منا رہے تھے۔

Iran Volleyball Weltliga - Frauen wieder als Zuschauerinnen zugelassen (MIZAN)

خواتین پر فٹ بال کے مقابلے دیکھنے کی پابندی سن 1979 میں ایرانی انقلاب کے وقت سے عائد ہے

صدر روحانی کی اعتدال پسند حکومت  فٹ بال ميچز دیکھنے کے لیے خواتین کے اسٹیڈیم میں آنے کی قائل ہے لیکن اب تک وہ ایران کے طاقت ور مذہبی رہنماؤں سے یہ فیصلہ منظور کرانے میں ناکام رہی ہے۔