1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خواتین کا عالمی دن اور پاکستان میں خواتین کے لیے نئی پالیسی

آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے ملک کی پہلی پالیسی بھی آج ہی جاری کی جا رہی ہے۔

پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی اس برس عالمی یوم نسواں پر معاشرے میں ترقی کے لیے خواتین کو با اختیار بنانے اور انہیں برابری کے حقوق دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سال یہ دن صنفی مساوات کے عنوان سے منایا جا رہا ہے، جس میں دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ سن 2030ء تک مردوں اور خواتین کو ففٹی ففٹی یعنی برابر اختیارات دیے جائیں۔

برابری کی سطح پر خودمختاری اور اختیارات کے حوالے سے اگر پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حالات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی کی حالیہ رپورٹ سے واضح ہو جاتے ہیں۔ اس کے مطابق ملک کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے تاہم (یو این ڈی پی) کے جینڈر ڈیولپمنٹ 2014 کے اعشاریے کے مطابق پاکستان خواتین کے تحفط اور دیکھ بھال کے عمل میں سست روی کے باعث دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں 147ویں نمبر پر ہے۔

اسی صورتحال میں بہتری کے لیے آج ’نیشنل ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی 2016ء ‘ کا اعلان وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے متوقع ہے۔ وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے انسانی حقوق بیرسٹر ظفراللہ کے مطابق خواتین کی خود مختاری کی پالیسی کا یہ بل نہ صرف خواتین کے سماجی حقوق بلکہ ان کے مالی استحکام اور کام کرنے کی جگہ پر زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ اس بل کو حکومت کی جانب سے خواتین کو مالی اعتبار سے مستحکم اور خود مختار بنانے میں مددگار کہا جا رہا ہے۔

انٹرنل افیئرز کی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہ مریم اورنگزیب کے مطابق خواتین کو خودمختار بنانے کی پالیسی میں خواتین دوست کئی اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مریم اورنگزیب کے مطابق، ’’خواتین کو صرف پیشہ وارانہ تربیت ہی دینا ضروری نہیں بلکہ ان کو خود مختار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مالی اعتبار سے بھی مستحکم بنایا جائے۔‘‘

ان کے مطابق نئی پالیسی میں ملازمت پیشہ خواتین سے متعلق مسائل اور ان کے حل کے لیے اقدامات رکھے گئے ہیں۔ اس میں ملازمت پیشہ خواتین کی سہولت کے لیے ڈے کئیر سینٹرز، میٹرنٹی کی رخصت میں اضافہ، ملازمت کے کوٹے میں اضافہ اور ملازمت کے تحفظ جیسے معاملات پر بات کی گئی ہے۔

پنجاب میں تحفظ خواتین بِل کی متفقہ طور پر منظوری

خواتین کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے اور ان کے تحفظ کے لیے پنجاب اسمبلی میں رواں ماہ متفقہ طور تحفظ خواتین بل 2015ء منظور کیا گیا جس کے تحت گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی و نفسیاتی تشدد، بدکلامی اور سائبر کرائمز قابل گرفت ہوں گے۔ بل کے تحت خواتین کی شکایات کے لیے ٹول فری نمبر قائم کیا جائے گا جبکہ ان کی تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹی بنائی جائے گی۔ پروٹیکشن آفیسر شکایت ملنے کے بعد متعلقہ شخص کو مطلع کرنے کا پابند ہوگا۔ پروٹیکشن آفیسر سے مزاحمت کرنے پر چھ ماہ تک قید کی سزا اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ غلط شکایت یا اطلاع کرنے پر تین ماہ کی سزا اور پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔

تشدد کے مرتکب افراد کو اسلحہ خریدنے اور اسلحہ لائسنس حاصل کرنے سے روکا جا سکے گا، جبکہ ان کے پاس موجود اسلحے کو بھی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی جاسکے گی۔ پنجاب بھر میں متاثرہ خواتین کے لیے شیلٹر ہومز بنائے جائیں گے، جبکہ شیلٹر ہومز میں متاثرہ خواتین اور ان کے بچوں کو بورڈنگ اور لاجنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ مصالحت کے لیے بھی سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔

پاکستان علماء کونسل کی جانب سے تحفظ خواتین بل کی حمایت

اس ایکٹ کی کئی مختلف مذہبی جماعتوں اور پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ناقدین کی جانب سے شدید مخالفت دیکھنے میں آئی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان نے پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ تحفظ نسواں بل کو اسلامی اقدار اور آئین پاکستان کے خلاف قرار دے دیا۔ تاہم پاکستان علماء کونسل کی جانب سے آج جاری ہونے والے بیان کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بیان میں پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا، ’’اس بل کی مخالفت کرنے والے لوگ جہالت کی باتیں کر رہے ہیں۔ درحقیقت تحفظ خواتین ایکٹ، خواتین پر تشدد کے خاتمے میں مدد دے گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’بعض علماء کی جانب سے یہ تنقید فضول ہے کہ یہ بل خاندانی نظام میں بگاڑ پیدا کردے گا۔‘‘