1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

خواتین پر جنسی حملے، تین پاکستانی حراست میں

جرمنی کی پولیس نے تین پاکستانیوں کو جرمن شہر ڈارم اشٹٹ میں ایک میوزک میلے کے دوران خواتین پر جنسی حملے کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

ایسی اٹھارہ خواتین ہیں جنہوں نے ہفتہ 28 مئی کو ہونے والے اس اوپن ایئر میوزک میلے کے دوران ان پر کیے جانے والے جنسی حملوں کے بارے میں پولیس کو رپورٹ کی تھی۔ ان افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد پولیس اس بات کا بھی تعین کر رہی ہے کہ آیا اس دوران ان خواتین کو ان کی نقدی اور دیگر قیمتی اشیا سے بھی محروم کیا گیا تھا یا نہیں۔ اس میوزک میلے میں قریب چار لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق خواتین کی جانب سے ان حملوں کی رپورٹ درج کرانے کے بعد تین پاکستانی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اٹھائیس سے لے کر اکتیس برس کی عمروں کے ان تینوں پاکستانیوں نے جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔ پولیس کے مطابق انہیں دو سے تین مزید افراد کی تلاش ہے جو ان حملوں میں ملوث ہیں۔ خواتین نے پولیس کو درج کرائی جانے والی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ان پر حملہ کرنے والے افراد کا تعلق جنوبی ایشیا سے معلوم ہوتا ہے۔

Deutschland Hauptbahnhof Vorplatz in Köln

نئے سال کی شب کولون میں خواتین پر بڑے پیمانے پر جنسی حملے کیے گئے تھے

واضح رہے کہ اسی نوعیت کا واقعہ جرمنی کے شہر کولون میں بھی پیش آیا تھا۔ نئے سال کی شب کولون میں خواتین پر بڑے پیمانے پر جنسی حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں شمالی افریقی اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ اس واقعہ کے بعد جرمنی میں مشرق وسطیٰ سے جرمنی پہنچے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

DW.COM