1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’خواتین ایسے کپڑے پہنیں گی، تو جنسی حملے تو ہوں گے‘

جرمن شہر کولون کے دفتر استغاثہ اور پولیس کو ایک امام کے خلاف درجنوں شکایات موصول ہوئی ہیں۔ امام نے مبینہ طور پر ایک روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کولون جنسی حملوں کا ذمہ دار متاثرہ عورتوں کو ٹھہرایا تھا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی کولون سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کولون کے دفتر استغاثہ اور پولیس کو شہر میں موجود مسجد التوحید کے امام سمیع ابو یوسف کے خلاف کئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ شکایات ابو یوسف کے روسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد جمع کرائی گئیں۔

ابو یوسف نے مبینہ طور پر اپنے انٹرویو میں سالِ نو کے موقع پر کولون میں سینکڑوں خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں کا ذمہ دار خواتین ہی کو ٹھہرایا تھا۔ سلفی نظریات رکھنے والے سمیع ابو یوسف کولون کی مسجد التوحید کے امام ہیں، جرمنی کے خفیہ ادارے کافی عرصے سے اس مسجد کی نگرانی کر رہے ہیں۔

جرمنی کے کثیر الاشاعت اخبار ’بلڈ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ابو یوسف نے روس کے رین ٹی وی Ren TV کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا، ’’خواتین نے جیسے کپڑے پہن رکھے تھے، وہ بھی مسلمان مردوں کی جانب سے خواتین کی عصمت دری اور جنسی حملوں کی ایک وجہ ہے۔ اگر عورتیں نیم عریاں کپڑے پہن کر اور پرفیوم لگا کر گھومیں گی تو ایسے واقعات تو ہوں گے۔ یہ تو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔‘‘

جرمنی کی وفاقی پارلیمان کے ایک رکن فولکر بیک نے بھی سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والے امام ابو یوسف کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ بیک کا کہنا تھا کہ انہوں نے امام ابو یوسف کے خلاف عوام کو جرم پر اکسانے کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ کولون کے وکیل استغایہ اُلف وِلُوہن کے مطابق کولون شہر میں دیگر کئی شہریوں نے بھی ایسی شکایات درج کرائی ہیں۔

Zeitungscover - Focus

کولون میں ہونے والے جنسی حملوں کے بعد جرمنی میں مہاجرین کے بارے میں بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے

دوسری جانب ابو یوسف نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ صوبے کے عوامی نشریاتی ادارے ڈبلیو ڈی آر سے گفتگو کرتے ہوئے ابو یوسف کا کہنا تھا کہ ان کے بیان کو ’سیاق و سباق سے الگ کر کے‘ پیش کیا گیا ہے۔

ایک مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ابو یوسف کا کہنا تھا کہ اسلام خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

DW.COM