خواتين کی ٹريفکنگ کے خاتمے کے ليے قانون سازی درکار ہے، ماہرين | حالات حاضرہ | DW | 09.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خواتين کی ٹريفکنگ کے خاتمے کے ليے قانون سازی درکار ہے، ماہرين

موثر قانون سازی کے فقدان اور غربت میں اضافے کے باعث پاکستان کے صوبہ خیبر پختون‍خوا میں وومين ٹریفکنگ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرين کا کہنا ہے کہ وومين ٹريفکنگ کے خاتمے کے ليے قانون سازی درکار ہے۔

DW.COM

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ايف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق گ‍زشتہ تین سالوں کے دوران صوبے کے مختلف پولیس اسٹيشنوں میں 368 کیسز رجسٹر کيے جا چکے ہیں، جن میں 126 ٹریولنگ ایجنسیز کے 208 افراد کو ملوث پایا گیا۔ ان میں اکاون کو سزا دی گئی۔ پاکستان میں سن 2002 کے دوران عورتوں کی ٹريفکنگ روکنے کے ليے قانون سازی کی گئی تھی، جس پر نیشنل ایکشن پلان کے ت‍حت 2009ء ميں عملدرآمد شروع ہوا تھا۔

اس سلسلے میں وفاقی تحقیاتی ادارے (ایف ائی اے)کے لیگل آفیسر جاوید علی نے ڈوئچے ویلے سے بات چيت کرتے ہوئے بتايا، ’’خواتين کی ٹریفکنگ کی روک تھام ایف ائی اے کا کام ہے لیکن اس کے ليے موثر قانون سازی اور ادارے کے افرادی قوت میں اضافہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔ سزا کی کمی اور قانون میں سقم کی وجہ سے ملوث افراد رہا ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ شادی اور بہتر مستقبل کی اڑ میں خواتین کو خلیجی ممالک اسمگل کیا جاتا ہے۔ ایسا قانون بنايا جانا چاہیے، جس میں سہولت کار خواہ کہیں بھی ہوں، ان پر ہاتھ ڈالا جاسکے۔

ایف ائی اے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران اکاون افراد کو سزائیں دی گئیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں کم ہیں۔ ایف ائی اے پشاور ميں خواتين کی ٹریفکنگ کے روک تھام کے ليے مقرر عمران شاہد نے ڈی ڈبليو کو بتایا، ’’ہر قسم کی ہیومن ٹریفکنگ کو روکنا ہمارا کام ہے۔ ایف ائی اے انٹرنل ٹریفکنگ کا ڈیٹا پولیس سے لیتی ہے جبکہ ایکسٹرنل ڈیٹا ایف ائی اے خود تیار رکرتی ہے اور یہی ڈیٹا اس قدر مصدقہ ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کو بھی فراہم کیا جاتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ عوام میں اگہی مہم انتہائی ضروری ہے تاکہ لالچ میں آ کر کوئی اپنے بچیوں کو غیر قانونی راستے سے بیرون ملک نہ بھیجے۔

ڈی ڈبليو نے ’نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف وومين‘ کی متعلقہ کنسلٹننٹ سے بار بار رابطہ کیا لیکن ان سے بمات چيت ممکنہ نہ ہو سکی۔  تاہم خيبر پختونخوا حکومت کی صوبائی حکومت کے مشير اکبر علی شاہ ایڈوکیٹ سے جب رابطہ کیا گیا، تو ان کا کہنا تھا، ’’اٹھارویں ترمیم کے بعد اس پر کام کیا گيا اور حال ہی میں صوبائی اسمبلی میں وومين کاکس کے ذریعے قانون سازی کے ليے مسودہ تیار کيا ہے جسے انٹرنل خواتين کی اسمگلنگ کی روک تھا م کے ليے وومين کاکس کے ذریعے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔‘‘

خیبر پختونخوا میں انٹرنل خواتين کی ٹریفکنگ روکنے کے ليے موثر قوانین نہ ہونے کی وجہ سے اس جرم ميں ملوث لوگ سزا سے بچ جاتے ہی‍ں۔ صوبائی اسمبلی کی رکن اور وويمن کاکس کی چیئرپرسن نے ڈی ڈبليو کو بتايا، ’’اندرون ملک ہونے والی وومن ٹریفکنگ کی روک تھام اور اس میں ملوث افراد کو سزا دلوانے کے ليے قانون بنانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے لیکن قومی سطح پر قانون سازی وفاقی حکومت کا کام ہے۔‘‘ ان کے بقول وومين ٹریفکنگ دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں متاثرہ خاندانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے اور خواتین کی حقوق کے ليے کام کرنے والی خوشنود امجد ایڈوکیٹ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’خواتین کی اسمگلنگ کے بعض واقعات میں نکاح نامے تک پیش کيے جاتے ہیں۔ ایسے میں قانون بے بس ہو جاتا ہے۔ بعض والدین پیسوں کے لالچ میں اپنی بچیوں کی شادی ایسے لوگوں کے ساتھ کراتے ہیں جو انہیں بعد میں بیرون ملک اسمگل کر کے اپنی مرضی کاکام لیتے ہيں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس اوسطاً ہفتے میں دو کیسز ایسے آتے ہیں، جن میں بچیوں کو دیگر صوبوں میں بیاہنے کے بعد واپس لانے کے ليے عدالت کا رخ کيا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت انٹرنل خواتين کی ٹریفکنگ کی روک تھام کے ليے قانون سازی پر کام کر رہی ہے تاہم بیرون ملک وويمن ٹریفکنگ کی روک تھام وفاق کی سطح پر موثر قانون سازی سے ہی ممکن ہوگی۔