1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خمینی کا پوتا مجلس خبرگان رہبری کا امیدوار

ایران کے انقلابی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے نے جمعے کے روز فروری میں منعقدہ مجلس خبرگانِ رہبری کے لیے اپنا نام درج کروا دیا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے، جو سپریم لیڈر کا انتخاب کرتا ہے۔

ایران میں مجلسِ خبرگان ریبری کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے، کیوں کہ ایرانی سپریم لیڈر کا انتخاب مذہبی رہنماؤں کی اسی مجلس کی ذمہ داری ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق 43 سالہ حسن خمینی، جو سیاسی طور پر اعتدال پسند مذہبی رہنما ہیں، انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے گھرانے سے پہلے ایسے فرد ہیں ، جو اس مجلس کی رکنیت کے لیے سامنے آئے ہیں۔ فروری میں اس مجلس کے انتخاب میں حسن خمینی کے بطور امیدوار سامنے آنے کو صرف حسن خمینی ہی نہیں بلکہ آیت اللہ خمینی کی مقبولیت کے ایک امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Iran Ayatollah Ali Khamenei

76 سالہ خامنہ ای کا جاں نشیں ممکنہ طور پر یہی مجلس منتخب کرے گی

خبر رساں اداروں نے حسن خمینی کے انتہائی قریبی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حسن خمینی کے اس اقدام کی مشروط حمایت کرتے ہوئے انہیں متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنے انتخاب کے عمل میں اپنے دادا کا نام استعمال نہ ہونے دیں۔

ایران میں خامنہ ای کے قریبی سخت گیر موقف کے حامل رہنماؤں نے حسن خمینی کے امیدوار کے طور پر سامنے آنے پر خاصا اعتراض کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اصلاحات پسند اتحاد ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی اسٹیبلشمنٹ تک پہنچتا جا رہا ہے۔

حسن خمینی اعتدال پسند صدر حسن روحانی کے خاصے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ جولائی میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے تناظر میں حسن روحانی کی مقبولیت میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

روحانی کی کوشش ہے کہ اس مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ہم فکر سیاست دانوں کو خبرگان رہبری اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں برتری دلائیں، جو ایک ہی دن منعقد ہو رہے ہیں۔

خامنہ ای 76 برس کے ہیں اور نئی اسمبلی ممکنہ طور پر ان کے جاں نشین کا تقرر کرنے والی ہے، کیوں کہ اس مجلس کے ارکان ہر آٹھ برس بعد منتخب کیے جاتے ہیں۔