1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خمینی کا پوتا الیکشن کا اہل نہیں: شوریٰ نگہبانِ دستور

ایرانی دستوری ادارے گارڈین کونسل نے آیت اللہ خمینی کے پوتے حسن خُمینی کو الیکشن میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی تھی جو مسترد کر دی گئی ہے۔

ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی آیت اُللہ العظمیٰ روح اُللہ خمینی کے پوتے حسن خُمینی کو ماہ رواں میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حسن نے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جسے ُبدھ کو علماء کونسل نے رد کر دیا۔

43 سالہ حسن خمینی، خمینی خاندان کے پہلے فرد ہیں جو پارلیمانی الیکشن میں بطور امیدوار کھڑا ہونے کی کوشش میں تھے۔ وہ موجودہ صدر حسن روحانی کے علامتی حامی تصور کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ برس جولائی میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے تناظر میں حسن روحانی کی مقبولیت میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایران کے معاشرتی و دستوری حلقوں میں مجلسِ خبرگان رہبری کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے، کیوں کہ ایرانی سپریم لیڈر کا انتخاب مذہبی رہنماؤں کی اسی مجلس کی ذمہ داری ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق 43 سالہ حسن خمینی، جو سیاسی طور پر اعتدال پسند مذہبی رہنما ہیں، انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے گھرانے سے پہلے ایسے فرد ہیں ، جو اس مجلس کی رکنیت کے لیے سامنے آئے تھے۔

Hassan Khomeini und Hashemi Rafsanjani Iran

حسن خمینی سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے ہمراہ

موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حسن خمینی کو الیکشن کے عمل میں حصہ لینے سے قبل متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنے انتخاب کے عمل میں اپنے دادا کا نام استعمال نہ ہونے دیں۔

ایران میں خامنہ ای کے قریبی سخت گیر موقف کے حامل رہنماؤں نے حسن خمینی کے امیدوار کے طور پر سامنے آنے پر خاصا اعتراض کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اصلاحات پسند اتحاد ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی اسٹیبلشمنٹ تک پہنچنے جا رہے ہیں۔

مغربی مبصرین ایران کی مجلسِ خبرگان رہبری کو ویٹکن سٹی میں پاپائے روم کے کالج آف کارڈینلز کے انداز کا ایک ادارہ خیال کرتے ہیں۔ رواں مہینے کے اوائل میں سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے گارڈین کونسل یا شوریٰ نگہبان دستور اساسی کے بڑھتے کردار پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔ ہاشمی آج کل مجلسِ خبرگان رہبری کے رکن ہیں۔

فروری کی 26 تاریخ کو ایران میں شوریٰ نگہان کے علاوہ پارلیمانی انتخابات بھی منعقد ہو رہے ہیں، جن میں شوریٰ نگہبان کے 88 اور پارلیمان کے 290 قانون سازوں کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ شوریٰ نگہبان کی رکنیت کے لیے آٹھ سو امیدوار میدان میں ہیں، تاہم ان تمام امیدواروں کا جائزہ شوریٰ نگہبان لے گی اور حتمی فہرست سولہ فروری کو عام کی جائے گی۔