1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیچ میکسیکو: بہتے تیل پر قابو پانے کی تازہ کوشش

برٹش پٹرولیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج میکسیکو میں زیر سمندر بہتے تیل کی کچھ مقدار کو روکنے میں کامیابی کے امکانات ظاہر ہوئے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ان نتائج کے مثبت ہونے کی تصدیق ہو گی۔

default

زیر سمندر بہتے تیل کا پریشر :فائل فوٹو

امریکی ریاست لوئزیانہ کے قریبی سمندر کے اندر برٹش پٹرولیم( بی پی) کے تیل کے کنویں سے بہتے تیل کی کچھ مقدار کو روکنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ بی پی کا خیال ہے کہ ایک مقام پر جو نیا ڈھکنا رکھا گیا ہے وہ ابتدائی طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ اس ڈھکنے سے ایک ہزار بیرل تک تیل کو محفوظ کیا جا سکے گا جو کہ بہتے تیل کی مقدار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔خلیج میکسیکو میں زیر سمندر روزانہ کی بنیادوں پر تقریباً بارہ سے انیس ہزار بیرل تیل بہہ رہا ہے۔

بی پی کے مطابق اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں اگر تازہ کوشش کامیاب ہو گئی تو پھر نوے فی صد تیل کو اسی طریقے سےبہنے والے مقام سے منتقل یا سائفن کرنے کا عمل اگلے چند دنوں میں مکمل ہوسکتا ہے۔

obama-wutfertig.jpg

خلیج میکسیکو کے متاثرہ مقام کا چار جون کو امریکی صدر کا تیسرا دورہ تھا

عالمی سطح پر برٹش پٹرولیم کو اب کئی مسائل کا سامنا ہو گیا ہے۔ اس کی کریڈٹ درجہ بندی میں واضح کمی ہو گئی ہے جو مالی معاملات پر براہ راست اثرانداز ہو سکتی ہے۔ بڑے بڑے بینک اسی کریڈٹ درجہ بندی پر ہی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کو لاکھوں کروڑوں ڈالر کےقرضے فراہم کرنے کی منظوری دیتے ہیں۔ برٹش پٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ٹونی ہیوارڈ کے مطابق ان کی کمپنی اگلے مہینوں میں خلیج میکسیکومیں پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے میں کامیاب ہو جائے گی کیونکہ ان کی کمپنی کے پاس نقد رقم کی مد میں کافی سرمایہ موجود ہے اور اس کے اثاثوں کا حجم بھی کافی ہے، اس باعث وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کامیابی حاصل کرے گی۔ اس ادارے پر امریکی حکومت سمیت کئی اداروں کی جانب سے دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس ماہ میں حصص رکھنے والوں کو سالانہ منافع کی تقسیم ملتوی کردے۔

Ölpest Golf von Mexiko

زیر سمندر بہتے تیل کے مقام پر لگایا جانے والا ڈھکن نصب کرنے کی تصویر

دوسری جانب امریکی صدر اوباما نے تیسری مرتبہ متاثرہ ساحلی پٹی کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر اوباما نے برٹش پٹرولیم کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ خلیج میکسیکو میں تیل بہنے کے بعد سے اس ادارے نے اپنی ساکھ کو بہتر بنائے رکھنے کے حوالے سے پچاس ملین ڈالر ٹیلی وژن اشتہارات پر خرچ کئے ہیں۔ اس کے علاوہ اوباما نے برٹش پٹرولیم کی جانب سے رواں ماہ کے دوران حصص رکھنے والوں کو ساڑھے دس ارب ڈالر کا منافع دینے کی بھی مذمت کی ہے۔ اوباما نے واضح کیا ہے کہ بی پی خلیج میکسیکو میں بہتے تیل کے معاملے پرجوابد ہی سے نہیں بچ سکتی۔

برٹش پٹرولیم کئی ملکوں میں تیل کی پیداوار میں مصروف ہے۔ اس کا سن 2009ء میں خالص منافع چودہ ارب ڈالر کے قریب تھا۔ ابھی تک خلیج میسیکو میں تیل بہنے کے معاملے میں یہ کمپنی لگ بھگ ایک ارب ڈالر خرچ کر چکی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ خلیج میکسیکومیں بہتے تیل کی وجہ سے انتہائی برے اثرات پیدا ہونے پرکمپنی کی کم از کم چونتیس فی صد مالی حثیت کم ہو سکتی ہے۔ اس صورت حال کا برٹش پٹرولیم کو بھی اندازہ ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM