خلیج میں ٹیکس کا نفاذ: نفسیاتی دھچکا یا حقیقی خطرے کی گھنٹی | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیج میں ٹیکس کا نفاذ: نفسیاتی دھچکا یا حقیقی خطرے کی گھنٹی

2017ء کا اختتام بھی اتنا ہی تلاطم خیز ہے جتنی اس کی ابتداء۔ 31 دسمبر سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ٹیکس سے مبراء معاشی نظام اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے اور سن 2018 سے دونوں ممالک میں پانچ فیصد VAT کا نفاذ ہو رہا ہے۔

اس ٹیکس کا اطلاق تمام روز مرہ کی ضروری اشیاء سے لے کر بجلی اور فون کے بلوں سب پر یکساں ہوگا۔ اگرچہ مکان اور دفاتر کے کرائے اور ہوائی سفری ٹکٹ تاحال اس سے مستثنیٰ ہیں لیکن ہوٹل میں طعام اور قیام پر بھی یہ ٹیکس لاگو ہوگا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ٹیکس کے نفاذ کے قانون میں بہت زیادہ مماثلت ہے لیکن مکمل ہم آہنگی بہرحال نہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب دونوں مقبول اداوں پر ٹیکس کا اطلاق کر رہے ہیں لیکن ریاض نے اعلیٰ تعلیم کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

نومبر 2016ء میں خلیجی تعاون کونسل کے ايک فيصلے کے مطابق تمام ممالک نے اپنے معاشی نظام اور ضرورت کے تحت ٹیکس کا نفاذ کرنا ہے۔ اس پيش رفت کا ایک سبب تیل کی قیمتوں میں پچھلے تین برس سے جاری کمی اور اس کی وجہ سے آمدن میں زوال ہے جبکہ دوسری اہم وجہ تیل پر انحصار میں کمی کی کوشش ہے۔ عالمی اقتصادی ادارے کے مطابق ٹیکس کا اطلاق خلیجی ممالک کی معیشت میں استحکام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا باعث بنے گا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نومبر 2016ء سے 2017ء کے اختتام تک کا وقت ٹیکس کے نظام کی تشکیل میں صرف کیا اور ساتھ ہی  نجی سيکٹر سے مشاورت بھی کی گئی، جس کے اطمینان کے بغیر یہ تاریخی قدم اٹھایا جانا ناممکن ہوتا۔ اس معاملے ميں صارفین یا عوام سے عدم مشاورت خلیجی ممالک کے مکینوں کے ليے کوئی غير متوقع بات نہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق متحدہ امارات میں ٹیکس کے نفاذ سے 3.3 ملین ڈالر کی سالانہ آمدن ہوگی۔

ٹیکس کے نفاذ کے غیر ملکی افرادی قوت پر اثرات

کئی دہائیوں سے دنیا بھر کے ہنر مند روزگار کی تلاش ميں خلیجی ممالک کا رخ کرتے آئے ہیں، جو یہاں کے موسم سے خائف ہوتے ہیں اور نہ ہی محدود حقوق سے۔ اس معاشی ہجرت کا سبب بہتر تنخواہیں اور ٹیکس کی بندش سے آزادی تھی۔

گزشتہ برس تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی کا مسلسل آغاز خلیجی ریاستوں کے ليے لمحہ فکریہ بنا اور آج کوئی بھی ملازم یا فرد اس خطے میں ٹیکس کی قدغن سے آزادی کی امید نہیں کر سکتا۔ جلد یا بدیر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرح دیگر ممالک بھی VAT کا نفاذ کرنے پر مجبور ہو جائيں گے۔ خلیج میں موجود افرادی قوت میں تشویش ہے کہ کیا وہ اس نئے بوجھ کے باعث اپنے خاندانوں کو ماہانہ اخراجات بھیجنے کے قابل رہیں گے؟ کیا تنخواہوں میں اضافہ اس ٹیکس کی قدغن سے رہائی دلاسکے گا؟

دوسری جانب بیشتر ترقی پذیر ممالک اس تشویش سے دوچار ہیں کیا ان کے شہری بیش قیمت ترسیل زر جاری رکھ سکیں گے تاکہ ملکی معیشت کے ليے آمدن کا یہ اہم ذریعہ برقرار رہ سکے۔ انہیں یہ فکر بھی لاحق ہے کہ اگر یہ افرادی قوت اپنے روزگار کو پرکشش نہ سمجھتے ہوئے واپس آنے لگی تو اقتصادی عدم استحکام کے خطرے سے کیسے نمٹا جائے گا۔

ان تمام تر سوالات کا جواب صرف وقت ہی دے سکے گا۔ البتہ ترتیبی رجحانات کچھ یوں ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے مطابق خلیجی ممالک کے اقتصادی پھیلاﺅ میں دو فیصد سے زیادہ اضافے کی امید نہیں کی جاسکتی جبکہ اسٹینڈرڈ اینڈ پوور کے مطابق آئندہ برس تنخواہوں ميں اضافے کا امکان نہیں ہے۔ ايسے ميں اس ٹیکس کے نفاذ سے عالمی مزدوروں پر اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔

گزشتہ تین برسوں سے جاری اقتصادی ٹھہراﺅ کے باعث 2017ء میں بیرون ملک ترسیل زر میں کمی رہی ہے۔ افریقی اور ایشیائی ممالک بشمول پاکستان کے ليے ترسیل زر میں کمی صرف خلیجی ممالک سے ہی نہیں یورپ اور امریکا سے بھی ہوئی جس کی بنيادی وجہ عالمی معیشت میں مندی کا رجحان ہے۔

ٹیکس کے اطلاق کے بعد غیر ملکی افرادی قوت میں بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ رواں سال سعودی عرب سے پاکستان ترسیل زر مبادلہ میں 5.6 فیصد کمی کے باعث 3.7 ملین ڈالر منتقل کيے گئے جبکہ متحدہ عرب امارات سے ترسیل زر میں دو فیصد کمی کے بعد 1.34 ملین ڈالر کا زر مبادلہ پاکستان بھیجا گیا۔ غیر ملکی افرادی قوت نہ صرف 2018ء میں ٹیکس دہندہ بن جائے گی بلکہ اس کی تنخواہوں میں اضافے کا بھی کوئی امکان نہیں۔

نوید احمد

نويد أحمد خلیج میں مقیم پاکستانی تحقیقاتی صحافی ہیں ۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عسكرى، سفارتى اور ریاستى امور پر تحقیق اور رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ Twitter @naveed360

اگر تیل کی قیمت 55 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہی اور خلیجی ممالک اور ایران میں کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہوا تو روزگار کے مواقع میں کمی خارج از امکان ہوگی لیکن اقتصادی پھیلاﺅ کا رجحان دو فیصد سے زیادہ نہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوں گے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پينتيس لاکھ برسرروزگار افراد دونوں ممالک کی معیشت اور معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی وطن واپسی کا انحصار وہاں موجود روزگار کے مواقع پر ہے۔ پاکستان کے ليے 2018ء انتخابات اور ہلچل کا سال ہوگا اور بیرون ملک مقیم پاکستانی واپسی کا فیصلہ کرنے سے پہلے نئی حکومت بننے کا انتظار کریں گے۔ قوی امکان ہے کہ اقتصادی مہاجرین 2018ءميں خواہ تنگی کے ساتھ ہی سہی لیکن خلیج میں کام کریں گے۔ سعودی عرب کی معیشت آئندہ سالوں میں مزید مواقع پیدا کرے گی۔

مستقبل قریب میں تمام خلیجی ممالک ٹیکس کا نفاذ کریں گے۔ قطر میں ٹیکس کا نفاذ قدرے تاخیر سے ہوگا جس کی تین وجوہات ہیں۔

1۔ ہمسایہ ممالک کے جارحانہ رویے کے باعث قیادت کسی اندرونی اصلاحاتی عمل سے گریز کرے گی۔

2۔ 2022ءکے فٹ بال کے عالمی کپ کی تیاریوں کے ليے قطر کو غیر ملکی افرادی قوت کی ضرورت رہے گی اور ٹیکس کی قدغن ان کے ليے حوصلہ شکن ہوگی۔

3۔ قطر اپنی معاشی آسودگی کے باعث کم از کم ایک برس مزید سبسڈی جاری رکھ سکتا ہے۔

کویت بھی ٹیکس کا نفاذ التواء میں رکھے گا اور سبسڈی کچھ عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ بحرین کی معیشت تنگی کا شکار ہے، اندرونی خلفشار کے خطرے کے پیش نظر قیادت ٹیکس کے اطلاق کو ملتوی رکھے گی۔ اس کا نفاذ ایران نواز عناصر کے ليے احتجاجی مظاہروں کا سبب بن سکتا ہے۔

سعودی عرب اور امارات کے بعد عمان ٹیکس کا نفاذ کرنے کا متحمل ہوسکتا ہے مگر رواں سال تمام ہمسایہ ممالک متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے تجربے کا بغور مشاہدہ کریں گے۔

مستقبل بعید میں خلیجی ممالک کا اقتصادی نظام میں شمولیت خوش آئند امر ہوگا جس سے عالمی اور علاقائی معیشت کو تقویت ملے گی۔