1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیج میکسیکو، پانی میں تیل کی مقدار اندازوں سے زیادہ

خلیج میکسیکو میں پانی کے اندر بنے تیل کے کنویں کو نقصان پہنچنے کے بعد اس سے خارج ہونے والےخام تیل کے بارے میں پہلے سے لگائے گئے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

default

خلیچ میکسیکو کا ایک منظر

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کنویں سے خارج ہونے والے اس تیل کی مقدار کئی گنا زیادہ ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانی میں شامل ہونے والا یہ تیل جمعہ کے روز تک امریکی ریاست لوزیانا کے ساحلوں تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم انجینئرز کوشش کر رہے ہیں کہ تیل کے اس پھیلاؤ کو کسی طرح روکا جائے۔

اِس کنویں سےنکل کر پانی میں شامل ہونے والے تیل کا اخراج اب تک ایک ہزار بیرل روزانہ بتایا جا رہا تھا۔ تاہم اب حکام نے بتایا ہے کہ اخراج کی مقدار اِس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ یہ تیل لوزیانا کے حساس ساحلی علاقے سے صرف70 کلومیٹر دور پانی میں شامل ہو رہا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے میتھیؤ شوفیلڈ کا کہنا ہے کہ اس کنویں کو چلانے والی بی پی آئل کمپنی نے کل بدھ کی شام یہاں45 منٹ تک ایک تجربہ کرتے ہوئے پانی میں پھیلے تیل کے ایک چھوٹے سےحصے کوآگ لگا کر ختم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ابھی انجینئرز اس حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکے کہ یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوا؟ کامیابی کی صورت میں وہ سمندر کے باقی علاقے میں پھیلے ہوئے تیل کو بھی اسی طرح جلا کر ختم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حالیہ دنوں کی طرح اب بھی جنوب مشرق سے تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تیل جمعہ کے روز تک لوزیانا کے مسی سپی ڈیلٹا تک پہنچ جا ئے گا۔

Ölteppich vor der Küste von Louisiana USA

حکام کا اندازہ ہے کہ روزانہ آٹھ لاکھ لیٹر تیل پانی میں شامل ہو رہا ہے

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میکسیکو کی خلیج میں بی پی آئل کمپنی کے تیل کے کنویں سے نکلنے والا خام تیل ایک بڑی ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ جنگلی حیات کے لئے کام کرنےوالے اداروں کی کوشش ہے کہ یہاں سے پرندوں اور دوسرے جانوروں کوآتش بازی اور مختلف طریقوں سے شور پید کرتے ہوئے یہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ اس وقت بھی استعمال کیا گیا تھا، جب 2004 ء میں طوفان کی وجہ سے اِسی خلیج میں ایک پائپ لائن ٹوٹ گئی تھی۔ بی پی آئل کمپنی اِس آلودگی پر قابو پانے کے لئے روزانہ چھ ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے اور اِس کمپنی کے نمائندوں کے مطابق انہوں نے تیل کی تہہ کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے سمندر میں 33 ہزارمیٹر تک لمبے تیرنے والے پائپ بچھائے ہیں۔

بعض لوگوں نے اس علاقے میں سات وہیل مچھلیوں کو بھی پانی میں تیرتے ہوئے دیکھا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ مچھلیاں پانی میں تیل پھیل جانے کے بعد پیدا ہونے والی اس صورتحال سے کس حد تک پریشان تھیں۔ ڈیڑھ ہزار میٹر کی گہرائی میں تیل کے اس اخراج سے ابھی تک گیارہ کارکنوں کے ہلاک ہو جانے کی بھی اطلاع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خراب موسم کی وجہ سے پانی کی سطح سے تیل اکٹھا کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے اور یہ کہ اُنہیں صورتحال کے اس قدر خطرناک ہو جانے کا اندازہ نہیں تھا۔

رپورٹ: بخت زمان

ادارت: امجد علی