1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیج میکسیکو میں سمندر کی صفائی، نیا تجربہ جاری

خلیج میکسیکو میں بہہ جانے والے تیل کی بڑے پیمانے پر صفائی کے لئے تجربہ جاری ہے۔ اس مقصد کے لئے تائیوان کا ایک جہاز علاقے میں موجود ہے، جس پر تیل کو پانی سے الگ کرنے کا سسٹم نصب ہے۔

default

اس جہاز کو A Whale کہا جاتا ہے اور اسے تیل کو پانی سے الگ کرنے کے لئے خصوصی طور پر بنایا گیا ہے۔ اس پر نصب نظام خاص طریقہ کار کے تحت تیل کو پانی سے علیٰحدہ کرتا ہے اور پانی کو واپس سمندر میں بہا دیتا ہے۔

Öl-Bohrinsel sinkt im Golf von Mexiko

خلیج میکسیکو کا حادثہ اپریل میں ہوا

کوسٹ گارڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کے تحت کام کے باقاعدہ آغاز سے قبل دو دن اس کو تجرباتی بنیادوں پر پرکھا جا رہا ہے۔

اس نوعیت کے چھوٹے جہاز پہلے ہی لوئزیانہ میں موجود ہیں تاہم موسم کی خرابی اور تند لہروں کے باعث ان کا کام متاثر ہو رہا ہے۔

امریکی سائنسدانوں کے مطابق خلیج میکسیکو میں یومیہ 35 سے 65 ہزار بیرل خام تیل بہہ رہا ہے جبکہ 25 ہزار بیرل تیل یومیہ صفائی کے لئے وہاں موجود دو جہازوں کے ذریعے واپس حاصل کیا جا رہا ہے۔

خلیج میکسیکو میں سمندر کی تہہ سے تیل نکالنے کے لئے نصب ڈرلنگ پلیٹ فارم پر 20 اپریل کو ایک دھماکہ ہوا تھا، جس کے دو دن بعد یہ پلیٹ فارم ڈوب گیا۔ اس حادثے میں 11 کارکن ہلاک ہوئے تھے۔ ڈرلنگ پلیٹ فارم برٹش پٹرولیم نامی کمپنی کے زیر انتظام ہی کام کر رہا تھا، جس کی وجہ سے اس کمپنی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

NO FLASH Ölpest USA Obama besucht Küste

امریکی صدر باراک اوباما متاثرہ علاقے کا دورہ کر چکے ہیں

اس حادثے کے نتیجے میں سمندر میں پھیلنے والے تیل کے اثرات امریکی ریاست لوئیزیانا کے ساحل پر بھی ظاہر ہوئے جبکہ مسیسیپی، ایلاباما، لوئیزیانا اور فلوریڈا میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور سمندری آلودگی کے خلاف حکومتی کوششوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے اس حادثے کی مکمل ذمہ داری برٹش پٹرولیم پر عائد کی۔ انہوں نے سمندر میں بہہ جانے والے تیل کو ماحولیاتی تباہی قرار دیا۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گل

DW.COM