1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلیج میکسیکو میں تیل کے حادثے کا ایک سال مکمل

خلیج میکسیکو کے پانی میں تیل کے بہاؤ کا حادثہ تمام دنیا کے ماہرین اور ماحولیات کے شعبے کے محققین کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ ناروے کے محققین کی ایک ٹیم اس قسم کے حادثے سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات پر تحقیق کر رہی ہے

The Deepwater Horizon blowout preventer is lifted out of the Gulf of Mexico by the Helix Q4000 near the coast of Louisiana, Saturday, Sept. 4, 2010. (AP Photo/Patrick Semansky)

ڈیپ واٹر ہورائزن میں ہونے والے دھماکے کے بعد کا منظر

خلیج میکسیکو میں تیل کے حادثے کا ایک سال مکمل

ٹھیک ایک سال قبل خلیج میکسیکو کے تیل کے کُنویں "Deep Water Horizon" میں ایک زور دار دھماکہ ہوا تھا۔ تین ماہ تک اس حادثے کے نتیجے میں یومیہ پانچ ہزاربیرل تیل سمندر میں بہتا رہا ہے، یہاں تک کہ اس کی مقدار 800 ملین لیٹر تک پہنچ گئی۔ اس دوران ایک طرف تو امریکہ میں اس حادثے کے ماحولیات پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں تحقیقات جاری رہیں، دوسری جانب دنیا بھر میں تحفظ ماحولیات کے ماہرین مستقبل میں اس قسم کے ممکنہ حادثے پر فوری اور موئثر طورپر قابو پانے کے طریقہ کار کے بارے میں ریسرچ کرتے رہے۔

خلیج میکسیکو میں تیل کے بہاؤ کو کم کرنے کے لیے سائنسدانوں کی جو ٹیم سرگرم عمل رہی اُس میں دنیا کے مختلف ممالک کے ریسرچرز شامل تھے۔ اسکنڈے نیوین ملک ناروے میں تیل سے متعلق ریسرچ کی ایک قدیم روایت پائی جاتی ہے۔ 1971 ء سے ناروے میں بحیرہ شمال سے تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ ناروے کا ایک معروف تحقیقی ادارہ اس ملک کے چوتھے بڑے شہر ’ ٹرونڈہائم‘ میں قائم ہے۔

Vessels are seen at the Deepwater Horizon oil spill site in the Gulf of Mexico, off the Louisiana coast, Monday, July 26, 2010. (AP Photo/Gerald Herbert)

خلیج میکسیکو میں تیل کے بہاؤ کے ماحولیات پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے تھے

اسی جگہ ناروے کی مشہور زمانہ یونیوسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ SINTEF بھی قائم ہے۔ اسی ادارے سے منسلک محققین نے خلیج میکسیکو کے پانی میں تیل کے بہاؤ سے پیدا ہونے والی خوفناک صورتحال پر قابو پانی کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کے ماہرین کے ساتھ کام کیا تھا۔

SINTEF کے ریسرچرز نے اپنی لیباریٹری میں تیل کی مختلف اقسام اور پانی میں ان کے اثرات کے بارے میں تحقیق کی۔ گزشتہ برس اس لیبارٹری کا درجہ حرارت بڑھا کر 32 ڈگری سینٹی گریڈ کیا گیا اور خلیج میکسیکو کے پانی میں بہنے والے تیل کے نمونے کو اسی لیباریٹری میں لاکر اس کی نوعیت پر تحقیق کی گئی۔

SINTEF کے ایک سائنسداں Sven Ramstad کے بقول’ ہم اپنی لیباریٹری میں اس بارے میں اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح یہ تیل قطرہ قطرہ کر کے خلیج میکسیکو کے پانی میں پھیلا، کس طرح سے تیل پانی میں ملا اور کس طرح سے یہ بخارات بن کر مائع سے گیس میں تبدیل ہوا۔‘

Vessels assisting in the capping of the Deepwater Horizon oil wellhead are seen on the Gulf of Mexico near the coast of Louisiana Sunday, July 18, 2010. (AP Photo/Patrick Semansky)

خلیج میکسیکو میں تیل کے بہاؤ کے بحران سے نمٹنے کے لیے ناروے کے محققین کی ایک ٹیم بھی پہنچی تھی

Sven Ramstad کے ساتھی Per daling نے بتایا کہ تیل کے بہاؤ کو روکنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ تیل کی کونسی قسم مخصوص ماحولیاتی حالت مثلاً خاص درجہ حرارت اور پانی میں نمک کی مقدار کے مطابق کیا رنگ اختیار کرتی ہے اوراس کے کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ناروے کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پانی میں تیل کے بہاؤ جیسے سنگین حادثات پر قابو پانے کےلیے جہاں مکینیکل طریقہ کار کو بروئے کار لانا مفید ثابت ہوتا ہے، وہیں تیل کو منتشر کرنے والے کیمیاوی مادوں کا استعمال بھی نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خلیج میکسیکو میں ایک ایسے ہی کیمیکل کی آٹھ ملین لیٹر کی مقدار ڈالی گئی تھی، جس کے موئثر ہونے کے بارے میں بین الاقوامی محقیقن کی رائے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس