1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خلیج میکسیکو میں تیل کی آمیزش کا عمل جاری

امریکی صدر باراک اوباما ، اپنی کابینہ کے دو سیکریٹری خلیج میکسیکو کے ان متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لئے روانہ کر رہے ہیں ، جو سمندر میں تیل مل جانے کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

default

امریکی سینیٹ پر مشتمل اس خصوصی وفدکے دورے کا ایک مقصدیہ بھی ہے کہ اس حادثے کی ذمہ دار برطانوی کمپنی ’برٹش پیٹرولیم‘ پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

خلیج میکسیکو میں سمندر کی تہہ سے تیل نکالنے کے لئے نصب ڈرلنگ پلیٹ فارم کے حادثے کے نتیجے میں خام تیل کی ایک بڑی مقدار پانی میں شامل ہو رہی ہے، جس سے شدید ماحولیاتی تباہی کا خدشہ ہے۔ ’برٹش پیٹرولیم‘ بی پی نامی کمپنی ایک ماہ سے زائد وقت گرز جانے کے بعد بھی ابھی تک اس تیل کی لیکیج روکنے میں ناکام ہے۔

اتوارکوامریکی انتظامیہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر بی پی کمپنی خلیج میکسیکو میں تیل کی آمیزش روکنے میں کامیاب نہیں ہوتی توامریکی حکام جائے حادثہ کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ تاہم اوباما کی انتظامیہ اس امر سے بھی واقف ہے کہ اس تیل لیکیج کو روکنے کے لئے بی پی کمپنی اور تیل کے صنعت سے وابستہ ماہرین ہی زیادہ کار گر ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکی سیکریٹری داخلہ کین سالازار اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری جینٹ ناپولیٹانو سینیٹ کے ایک وفد کے ساتھ پیر کو متاثرہ علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دوران یہ وفد بی پی کمپنی کے ماہرین کے ساتھ امدادی کاموں کے بارے میں مفصل گفتگو بھی کرے گا۔ امریکی سینیٹ کا یہ خصوصی وفد واپسی سے قبل لوئیزیانا کے گورنر اور دیگر حکام سے اپنی ملاقاتوں کے دوران اس حادثے کے اثرات کے بارے میں معلومات بھی اکٹھی کرے گا۔

Ken Salazar Bildergalerie Kabinett

امریکی سیکریٹری داخلہ کین سالازار

داخلہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کی طرف سے جاری کرہ ایک بیان میں کہا گیاہے کہ اس خصوصی وفد میں اہم ڈیموکریٹک سینیٹر ڈک ڈربن کے علاوہ لوئیزیانا کے سینیٹرز میری لینڈریو اور اور ڈیوڈ وِٹر بھی شامل ہوں گے۔

اتوار کو سالازار نے کہا تھا کہ خلیج میکسیکو میں تیل کی آمیزش کو روکنے کے حوالے سے بی پی کمپنی کی ناکامی پر واشنگٹن حکومت تشویش میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی پی کمپنی کئی مرتبہ اپنی ڈیڈ لائن مکمل نہ کر سکی۔ ہوسٹن میں بی پی کمپنی کے صدر دفتر کا دورہ کرنے کے بعد سالا زار نے کہا :’’اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ تیل کی آمیزش کو روکنے کے لئے بی پی کمپنی وہ نہیں کر رہی، جو اسے کرنا چاہئےتو پھر ہم اس کمپنی کو مناسب طریقے سے پیچھے ہٹا دیں گے۔‘

ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ خلیج میکسیکو میں تیل شامل ہو رہا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ پانی میں تیل کے ملنے سے دور رس ماحولیاتی اثرات ظاہر ہوں گے۔ امریکی صدر باراک اومابا کی انتظامیہ اس حادثے کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے۔

بیس اپریل کو خلیج میکسیکو میں سمندر کی تہہ سے تیل نکالنے کے لئے نصب ڈرلنگ پلیٹ فارم ایک دھماکے کے ساتھ تباہ ہو گیا تھا ، جس کے دو دن بعد یہ پلیٹ فارم غرق ہو گیا تھا جبکہ اس حادثے میں 11 کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM