1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خلیج میکسیکو میں ایک نیا آپریشن شروع

برٹش پٹرولیم نے خلیج میکسیکو میں تیل کے اخراج کو روکنے کے لئے ’سب میرین روبوٹ‘ کی مدد سے ایک نیا آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

default

خلیج میکسیکو میں تیل کے اخراج کو روکنے کے لئے اب تک کئے جانے والے اقدامات موثر ثابت نہ ہوسکے

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اس تیل کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور امریکی حکومت بھی شدید نوعیت کی ماحولیاتی تباہی کا باعث بننے والے اس حادثے کی چھان بین کر رہی ہے۔ برٹش پڑولیم نے چند روز قبل خلیج میکسیکو کے پانیوں میں سمندر کی تہہ سے اس تیل کے اخراج کو روکنے کے لئے ’آپریشن ٹاپ کل‘ بھی شروع کیا تھا، جو مسلسل کوششوں کے باوجود ناکام رہا تھا۔ اب روبوٹ کے طور پر کام کرنے والی ایک آبدوز کی مدد سے یہ کمپنی پہلے تیل کے کنویں میں اُس پائپ کو کاٹے گی جہاں سے تیل خارج ہو رہا ہے اور پھر اس کنویں کے کٹے ہوئے پائپ کے اوپر والے حصے کو ایک دوسرے پائپ کے ساتھ جوڑ کر اس طرح بند کر دیا جائے گا کہ سمندر میں تیل کا اخراج بند ہو جائے۔ اس مقصد کے لئے تیل کے بہاؤ کو قابو کرنے والا ایک بڑا گبند نما ڈھانچہ اس کنویں کے منہ پر رکھا جائے گا، جو اس خارج ہوتے ہوئے تیل کو ایک پائپ کے ذریعے قریب ایک میل کے فاصلے پر سمندر میں کھڑے ایک بحری جہاز تک پہنچائے گا۔

USA Ölpest Golf von Mexiko Küste

خلیج میکسیکو میں تیل کا اخراج ماحولیاتی تباہی کا باعث بھی بن رہا ہے

ماہرین کا خیال ہے کہ اب تیل کے اس اخراج کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے بہاؤ کو صرف محدود ہی کیا جا سکتا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈز کے ایڈمرل Thad Allen کا کہنا ہے کہ جس کنویں سے تیل نکل رہا ہے وہ اُسے مکمل طور پر بند کرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ یہ کہ تیل کے اس اخراج کو محدود کرنے کو کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایڈمرل ایلن کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

NO FLASH Ölpest USA Obama besucht Küste

امریکی صدر اوباما خلیج میکسیکو کے اس بحران کا اندازہ لگانے کے لئے وہاں کا دورہ کر چکے ہیں

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اگر امریکی حکومت کو اس بات کے شواہد ملے کہ خود برٹش پٹرولیم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اس حادثے کا سبب بنا، تو واشنگٹن حکومت کی طرف سے BP کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق 20 اپریل کو پیش آنے والے اس حادثے کے بعد سے اب تک روزانہ تقریبا تین ملین لٹر تیل خارج ہو کر مسلسل سمندر میں شامل ہو رہا ہے، اور اس وجہ سے اب تک نہ صرف شدید ماحولیاتی تباہی دیکھنے میں آئی ہے بلکہ مزید تباہی کا بھی امکان ہے۔

تحفظ ماحول کے لئے کام کرنے والی امریکی تنظیمیں اپریل کے مہینے میں شروع ہونے والے اس تیل کے اخراج پر چراغ پا ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہ حادثہ نہ صرف قدرتی ماحول کے لئے انتہائی حد تک تباہی کا باعث بن رہا ہے بلکہ اس وجہ سے آبی حیات بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: مقبول ملک

DW.COM